ملفوظات (جلد 3) — Page 453
ملفوظات حضرت مسیح موعود سعى (النجم : ۴۰) ۴۵۳ جلد سوم ان لوگوں کو جو ولایت میں خونِ مسیح پر ایمان لاکر بیٹھے ہیں کوئی پوچھے کیا حاصل ہوا۔ مردوں یا عورتوں نے خون پر ایمان لا کر کیا ترقی حاصل کی۔ یہ باتیں ہیں جو بار باران کے کانوں تک پہنچانی چاہئیں یہ قصہ جھوٹا ہے کہ خدا پیٹ میں رہا۔ پھر ا سے خسرہ وغیرہ نکلی ہوگی ۔ طفولیت کے عالم میں ماں بھی کوئی دھول دھپا مار بیٹھی ہوگی ۔ لڑکوں میں کھیلتا ہوگا وہاں بھی مارکھاتا ہوگا۔ اب اس نظارہ کو کوئی دیکھے کہ بڑا ہو کر بھی مار کھاتا رہا اور چھوٹا تھا تو بھی طمانچے پڑتے رہے۔ ہے ۲۲ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبه ( بوقت ظهر ) طاعون کے متعلق آپ نے فرمایا کہ حقیقی طاعون بعض طلب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب تک سرسام نہ ہو ش نہ ہوتو صر ا تک سرسام ہو، مستی نہ ہوتا و غشی صرف گلٹی کے ساتھ جو بخار ہوتا ہے اور اس سے جو مر جاوے تو اصل میں اس کا نام اصل میں طاعون نہیں ہے بلکہ خاص طاعون کے دنوں میں یہ ایک مرض تشابہ بالطاعون ہوا کرتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی طاعون کا لفظ ایسی موتوں پر نہیں آسکتا جس میں صرف گلٹی اور بخار ہو اور دوسرے علامات طاعون نہ ہوں ۔ پھر فرمایا کہ ایک الہام گذشتہ شب کو دو یا تین کے یہ الہام ہوا اور بڑے زور کے ساتھ ہوا تاتي عليك وو عَلَيْكَ الحکم سے مجاہدات پر اللہ تعالیٰ کی راہیں کھلتی ہیں اور نفس کا تزکیہ ہوتا ہے جیسے فرمایا ہے ۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: ۱۰) اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت : ٧٠) الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰) البدر جلد ا نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۴