ملفوظات (جلد 3) — Page 452
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۲ جلد سوم چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اللہ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ پر لڑیں۔ ورنہ اگر تعصب ہوتا تو یہ حکم پہنچتا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ دین کی اشاعت کے واسطے جنگ کریں لیکن ادھر حکم دیا کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة : ۲۵۷) ( یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ) اور ادھر جب غایت درجہ کی سختی اور ظلم مسلمانوں پر ہوئے تو پھر مقابلہ کا حکم دیا۔ دین اسلام ایسا کمالات مجاہدہ سے حاصل ہوتے ہیں نہ کسی کے خون سے دین ہے کہ اگر خدا ہمیں عمر اور فرصت دے تو چند ایام میں ان لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ کیسا میٹھا اور شیریں دین ہے۔ کمالات تو انسان کو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں مگر جن کو سہل نسخہ مسیح کے خون کا مل گیا وہ کیوں مجاہدات کرے گا۔ اگر مسیح کے خون سے کامیابی ہے تو پھر ان کے لڑکے امتحان پاس کرنے کے واسطے کیوں مدرسوں میں محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں چاہیے کہ وہ تو صرف خون کے پر بھروسہ رکھیں اور اس سے کامیاب ہوں اور کوئی محنت نہ کریں اور مسلمانوں کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مار مار کر پاس ہوں ۔ اصل بات یہ ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ۴۰) ۔ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب اپنے نفس کو مطالعہ کرتا ہے تو اسے فسق و فجور وغیرہ معلوم ہوتے ہیں ۔ آخر وہ یقین کی حالت پر پہنچ کر ان کو صیقل کر سکتا ہے لیکن جب خون مسیح پر مدار ہے تو پھر مجاہدات کی کیا ضرورت ہے ان کو جھوٹی تعلیم سچی ترقیات سے روک رہی ہے۔ سچی تعلیم والا دعائیں کرتا ہے کوششیں کرتا ہے آخر دوڑتا دوڑتا ہاتھ پاؤں مارتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔ جب یہ بات ان کی سمجھ میں آوے گی کہ یہ سب باتیں قصہ کہانی ہیں (اور ان سے اب کوئی آثار اور نتائج مرتب نہیں ہوتے ) اور ادھر سچی تعلیم کی تخم ریزی کے ساتھ برکات ہوں گی تو یہ لوگ خود سمجھ لیویں گے انسان کھیتی کرتا ہے اس میں بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر ایک ملازم ہے تو اسے بھی محنت کا خیال ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر کوشش میں لگا ہے اور سب کا ثمرہ کوشش پر ہی ہے۔ سارا قرآن کوشش کے مضمون سے بھرا پڑا ہے ۔ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا لے یعنی حضرت مسیح کے خون پر (مرتب)