ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 451

ملفوظات حضرت مسیح موعود ( بوقت مغرب ) لد ١٥ جلد سوم عشاء سے قبل یورپ کی لامذہبی کے متعلق فرمایا کہ یورپ میں بے دینی پھلے گی عیسائی مذہب کی عمارت تو کرنی شروع ہوگئی ہے تقریب سوائے پادریوں کے اور سب لا مذہب کہلائیں گے۔ اے ۲۱ / دسمبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبه (بوقت مغرب) ڈاکٹر عباد اللہ صاحب امرتسری اور خواجہ کمال الدین اعتکاف کے متعلق بعض ہدایات صاحب پلیڈر یہ ہر دو صاحبان قادیان کی مسجد میں آجکل مختلف ہیں ) کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اعتکاف میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان اندر ہی بیٹھا رہے اور بالکل کہیں آئے جائے ہی نہ۔ چھت پر دھوپ ہوتی ہے وہاں جا کر آپ بیٹھ سکتے ہیں کیونکہ نیچے یہاں سردی زیادہ ہے اور ہر ایک ضروری بات کر سکتے ہیں۔ ضروری امور کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور یوں تو ہر ایک کام ( مومن کا ) عبادت ہی ہوتا ہے۔ پھر جہاد کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تلوار کا استعمال صرف دفاع کی خاطر تھا اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنی ہے اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی ۔ یہ اعتراض کہ آنحضرت نے پہلے تلوار اٹھائی بالکل غلط ہے تیرہ برس تک آنحضرت اور صحابہ صبر کرتے رہے پھر باوجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو اور جو مشرک تو میں صلح اور امن کی خواستگار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور صلح کی جاتی ۔ اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے جنگ کی بنیاد کو خود خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ل البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۴