ملفوظات (جلد 3) — Page 37
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷ جلد سوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دو لفظ ھدی اور حق کے رکھے ہیں۔ ھدی تو یہ ہے کہ اندر روشنی پیدا کرے۔ معما نہ رہے۔ یہ گویا اندرونی اصلاح کی طرف اشارہ ہے جو مہدی کا کام ہے اور حق کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے، چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسراءیل : ۸۲) اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے ليُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا۔ یہ غلبہ تلوار اور تفنگ سے نہیں ہوگا بلکہ وجوہ عقلیہ سے ہوگا۔ یا درکھو کہ پاک صاف عقل کا خاصہ ہے کہ وہ قصوں پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اسرار کو ھینچ لاتی ہے۔ اس واسطے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو حکمت دی گئی اُن کو خیر کثیر دی گئی ہے۔ آج کل ہمارے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی توجہ طاعون إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ کے معنے کی طرف زیادہ ہے اور چونکہ یہ لوگ عارف تر ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی غناء ذاتی سے خائف تر بھی ہوتے ہیں۔ عموماً سیر اور بعد شام طاعون پر کچھ نہ کچھ تقریر ہو جاتی ہے إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ کا جو الہام ایک عرصہ سے آنحضرت کو ہو چکا ہے۔ اس کے متعلق فرمایا کہ میں اس کے معنے یقیناً یہی سمجھتا ہوں کہ وہ افراتفری اور قیامت خیز نظارہ جو طاعون کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اس سے اللہ تعالیٰ قادیان کو ضرور محفوظ رکھے گا اگر چہ یہ امر ممکن ہی ہو کہ کوئی کیس خدانخواستہ یہاں ہو جائے مگر النَّادِرُ كَالْمَعْدُومِ کے ضمن میں ہے تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور وعدہ کے موافق یقین ہے کہ وہ ہمیں تشویش اور سخت اضطراب سے ضرور محفوظ رکھے گا۔ لے ۲۳ مارچ ۱۹۰۲ء مامور من اللہ کی صحبت میں رہنے مامور من اللہ کے مکذبین سے خدا تعالیٰ کا معاملہ والے لوگ بہت کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ا اور ایک حد تک علم صحیح اس تعلق کے متعلق جو مامور من اللہ اور خدا تعالیٰ میں ہوتا ہے الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۶