ملفوظات (جلد 3) — Page 450
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۰ جلد سوم کیا ہے۔ بے شک اب ایک تختہ الٹنے لگا ہے اور دوسرا تختہ شروع ہو گا جس طرح یہ لوگ اس زمانہ میں مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں بلکہ اکثر ان کے انتظار کے بعد اب ۔ ر کے بعد اب بے امید بھی ہو گئے ہیں اور اکثروں نے تاویلوں سے آمدثانی کے معنے ہی اور کر لئے ہیں۔ کیونکہ اس کے متعلق تمام پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور زمانہ کی نازک حالت ایک ہادی کو چاہتی ہے۔ اسی طرح اسلامی پیشگوئیوں کے مطابق بھی یہی وقت ہے۔ نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ گل اہلِ مکاشفات اور ملہمین کے کشوف اور الہام اور رویاء مسیح کے بارے میں چودھویں صدی سے آگے نہیں بڑھتے ۔ ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور اب مولوی مسیح اور مہدی کا ذکر ہی چھوڑ دیں گے تو مولوی لوگوں نے وہ خطبے وغیرہ پڑھنے چھوڑ دیئے ہیں جن سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی تھی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب تو وہ نام بھی نہ لیں گے اور اگر کوئی ذکر کرے تو کہیں گے کہ مسیح اور مہدی کا ذکر ہی چھوڑو۔ لے ۲۰ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز شنبه (بوقت عصر ) اس وقت تشریف لا کر حضرت اقدس نے بیان فرمایا کہ اخبار عام میں ان مقدموں کے حالات شائع ہو گئے ہیں اور ہمارے مقدمہ کو کھول کر نہیں بیان کیا بلکہ دبی زبان سے بیان کیا ہے۔ پھر ذکر کیا کہ یہ الہام يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَخَطَفُوا عرضك ۔ اس کی ہمیں کیا خبر تھی کہ وہ ان واقعات کے متعلق ہیں تخطف کے معنے اُچک کر لے جانا ہے۔ قادیان کے اخباروں کی نسبت فرمایا کہ قادیان کے اخبارات کی افادیت بھی وقت پر کیا کام آتے ہیں۔ الہامات وغیرہ جھٹ چھپ کر ان کے ذریعے شائع ہو جاتے ہیں ورنہ اگر کتابوں کی انتظار کی جاوے تو ایک ایک کتاب کو چھپتے بھی کتنی دیر لگ جاتی ہے اور اس قدرا شاعت بھی نہ ہوتی ۔ البدر جلد ا نمبر ۹ مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۶۸، ۶۹