ملفوظات (جلد 3) — Page 449
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۹ جلد سوم بعد پھر غنودگی ہوئی تو دیکھا کہ تریاق القلوب کا ایک صفحہ دکھایا گیا ہے جس پر علی شُكْرِ الْمَصَائِبِ لکھا ہوا ہے جس کے یہ معنے ہوئے کہ هَذِهِ صِلَةٌ عَلَى شُكُرِ الْمَصَائِبِ ۔ گویا یہ روپیہ اور چھوہارے شُكْرِ الْمَصَائِبِ کا صلہ ہے۔ تیسری دفعہ پھر کچھ ورق دکھائے گئے جن پر بیٹوں کے بارے میں کچھ لکھا ہوا تھا اور جو اس وقت یاد نہیں ہے۔ حضرت مولانا عبدالکریم الہامی دعا ئیں واحد متکلم کے صیغہ کو بصورت جمع پڑھنا صاحب نے ایک عد نے ایک شخص کا خط پیش کیا جس میں سوال تھا کہ دعا الہامیہ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنی کو صیغہ جمع متکلم میں پڑ لم میں پڑھ لیا جاوے یا نہ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں الفاظ تو الہام کے یہی ہیں (یعنی واحد متکلم میں ہیں ) اب خواہ کوئی کسی طرح پڑھ لیوے۔ قرآن مجید میں دونوں طرح دعا ئیں سکھائی گئی ہیں۔ واحد کے صیغہ میں بھی جیسے رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَی الخ (نوح : ۲۹) اور جمع کے صیغہ میں بھی جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ : ۲۰۲) اور اکثر اوقات واحد متکلم سے جمع متکلم مراد ہوتی ہے جیسے اس ہماری الہامی دعا میں فاحفظنی سے یہی مراد نہیں ہے کہ میرے نفس کی حفاظت کر بلکہ نفس کے متعلقات اور جو کچھ لوازمات ہیں سب ہی آجاتے ہیں۔ جیسے گھر بار، خویش و اقارب، اعضا و قوی وغیرہ۔ مفتی محمد صادق صاحب ایک عیسائی کمیٹی کے نزدیک مسیح کے ظہور کا یہی وقت ہے۔ ولایت کی ایک عیسائی کمیٹی کا ایک مضمون سناتے رہے جس میں مسیح کی دوبارہ آمد پر بہت کچھ لکھا تھا کہ وقت تو یہی ہے سب نشان پورے ہو چکے ہیں۔ اگر اب بھی نہ آیا تو پھر قیامت تک نہ آوے گا ۔ اس مضمون کو سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس نے بعض باتیں بالکل صاف اور سچی لکھی ہیں اور اس نے ضرورت زمانہ کو اچھی طرح محسوس