ملفوظات (جلد 3) — Page 448
ملفوظات حضرت مسیح موعود حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ جلد سوم میں بھی سارے مضمون لوہے کے قلم ہی سے لکھتا ہوں ۔ مجھے بار بار قلم بنانے کی عادت نہیں ہے۔ اس لئے لوہے کی قلم استعمال کرتا ہوں ۔ آنحضرت نے لوہے سے کام لیا ہم بھی لوہے ہی سے لے رہے ہیں اور وہی لوہے کی قلم تلوار کا کام دے رہی ہے۔ ( حضرت اقدس جس قلم سے لکھا کرتے ہیں وہ ایک خاص قسم کا ہوتا ہے جس کی نوک آگے سے داہنی طرف کو مڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس کی شکل تلوارسی ہوتی ہے۔ ایڈیٹر ) ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ (بوقت فجر ) نماز سے پیشتر حضرت اقدس نے فرمایا کہ الهام آج یہ الہام ہوا ہے إِنِّي مَعَ الْأَفواج اتي ۔ بعد ادائے نماز خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک خواب سنائی جس میں اپنا نمونہ ٹھیک بناویں دیکھا کہ زلزلہ آیا ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہی طاعون زلزلہ ہے۔ میں جماعت کے جماعت کو کہتا ہوں کہ یہ قیامت ہے جو آ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے گا مگر صرف اتنی بات پر خوش نہ ہوں کہ بیعت کی ہوئی ہے۔ قرآن میں ہر جگہ امنوا کے ساتھ عملِ صالحہ کی تاکید ہے۔ اگر بعض آدمی جماعت میں سے ایسے ہوں کہ جن کو خدا کی پروا نہیں اور اس کے احکام کی عزت نہیں کرتے تو ایسے آدمیوں کا ذمہ دار نہ خدا ہے اور نہ ہم ۔ ان کو چاہیے کہ اپنا اپنا نمونہ ٹھیک بناویں زلزلہ تو آرہا ہے۔ ( بوقت مغرب ) آپ نے اپنی تین رؤیا سنا ئیں جو کہ آپ نے پے در پے دیکھی تھیں ۔ تین رویا (اول) کہ ایک شخص نے ایک روپیہ اور پانچ چھو بارے رویا میں دیئے۔ اس کے البدر جلد نمبر ۹ مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۶۸