ملفوظات (جلد 3) — Page 447
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۷ جلد سوم انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( الفاتحة : ۶، ۷ ) اب ان سے کوئی پوچھے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کونسا فرقہ تھا تمام فرقے اسلام کے اس پر متفق ہیں کہ وہ یہودی تھے اور ادھر حدیث شریف میں ہے کہ میری اُمت یہودی ہو جاوے گی تو پھر بتلاؤ کہ اگر مسیح نہ ہو گا تو وہ یہودی کیسے بنیں گے ۔ متفرق امور مغرب و عشاء کی نماز ادا کر کے حضرت اقدس تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد تشریف لائے آکر ایک صحابی کو فرمایا کہ اللواء پر جو مضمون لکھا ہے وہ مطبع میں چلا گیا ہے ایک دو کا پیاں نکلیں تو آپ کو دکھا دیں گے۔ شفقت کا نمونہ ایک صاحب کے دانت میں درد تھا اس کے لئے حضرت اقدس نے کارا بارا ( ایک بوٹی ) طلب کرایا تھا وہ اندر مکان میں تھی جناب میر صاحب نے کہا کہ ان کے دانت میں درد ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں ابھی جا کر وہ سب بوٹی لا دیتا ہوں ۔ مریض نے کہا حضور کو زحمت ہوگی حضرت اقدس نے اس کے اوپر تبسم فرمایا اور کہا کہ یہ کیا تکلیف ہے۔ اور اسی وقت اندر جا کر حضور وہ رومال لے آئے جس میں وہ بوٹی تھی اور مریض کے حوالہ کی ۔ ایک نے اصحاب میں سے عرض کی کہ آیت لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَتِ وَ لوہے کی قلم اور تلوار لنا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْبَيْنَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا ج الْحَدِيدَ فِيْهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ (الحدید : (۲۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ حدید نے اپنا فعل بَاسٌ شَدِید کا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کیا کہ اس سے سامان جنگ وغیرہ تیار ہو کر کام آتا تھا مگر اس کے فعل مَنَافِعُ لِلنَّاسِ کا وقت یہ مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا حدید ( لو ہے ) سے فائدہ اٹھا رہی ہے ( جیسے کہ ریل، تار، دخانی جہاز ، کارخانوں اور ہر ایک قسم کے سامان لوہے سے ظاہر ہے )۔