ملفوظات (جلد 3) — Page 442
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۲ جلد سوم اس پر عرب صاحب نے نیاز مندی سے عرض کی کہ کرایہ کی فکر نہیں میں زیادہ بھی ٹھہر سکتا ہوں ۔ پھر عرب صاحب اپنی مذہبی زندگی کی کیفیت حضرت اقدس کو سناتے رہے کہ میں اس مشرب کا آدمی تھا کہ خدا کے وجود پر بھی ایمان نہ تھا یہی خیال تھا کہ کھانا ہے اور کمانا ہے۔ آئینہ کمالات اسلام نے آخر اس غلطی سے نجات دے کر حضور کی محبت کا تخم دل میں جمایا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ حقیقی لذات خدا میں ہیں خدا ہی کی تلاش کرو۔ حقیقی لذت خدا ہی میں ہے۔ جو لذات اس دنیا سے لے جاوے گا وہی اس کے ساتھ رہیں گی۔ ایک دہر یہ جب مرے گا تو اسے یہی خیال ہو گا کہ میں وہیں ہوں اور صرف جسم جدا ہوا ہے اس کو حسرت ہی حسرت رہے گی ۔ جسم کے اندھے اچھے ہیں اور وہ قابل رحم ہیں بہ نسبت اس کے کہ دل کے اندھے ہوں ۔ سید احمد خان نے تفریط کی راہ لی ۔ اور ان ( وہابیوں ) نے افراط کی ۔ طرح طرح کی بد نما باتیں بدنما پیش کیں ۔ انسان ان کو کہاں تک قبول کرتا۔ کوئی راہ تسلی اور سکینت کی نہ تھی کہ انسان مانتا ۔ دین کا سارا حصہ ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیوے۔ ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود خدا سمجھا دے۔ پھر جو سمجھنے والے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں بٹھاتا جاتا ہے۔ انسان کو پوری سعادت تک پہنچانے کے واسطے خدا نے اور حواس رکھے ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو پھر دین کو انسان سمجھ نہ سکتا اور اس وقت میں حقیقی طور پر انسان خدا پر ایمان لاتا ہے۔ خدا پر ایمان اس کا ہے جسے خدا نے ہی ایمان دیا برہمو کی طرح زمین اور آسمان کو دیکھ کر پھر خدا کی ضرورت کو ماننا تو گویا اپنی طرف سے ایک خدا تجویز کرنا ہے اور اس طرح سے گویا خود انسان کا احسان خدا پر ہے کہ اس نے خدا کا پتہ لگایا۔ اصل میں اس روز سے انسان کو سچی زندگی حاصل ہوتی ہے جس دن سے وہ خدا پر احسان نہیں رکھتا بلکہ خدا کا اپنے اوپر احسان مانتا ہے کہ اس نے خوداپنے وجود سے اسے خبر دی اور اسی دن سے سفلی زندگی سے انسان کو نجات حاصل ہوتی ہے جس دن خدا کہے کہ میں غالب ہوں اور اس دن سے وہ ترک گناہ پر قادر ہوگا۔ یہی وہ سلسلہ ہے جس سے انسان کو کامل یقین خدا پر حاصل