ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 441

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۱ جلد سوم وغیرہ سناتے رہے۔ مولوی عبد الکریم صاحب کے سفر میں ہر ایک قسم کے عوارض اور شکایت سے محفوظ رہنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمارا ایمان ہے کہ سب اس کے ہاتھ میں ہے خواہ اسباب سے کرے خواہ بلا اسباب کے۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز سه شنبه (بوقت فجر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لا کر نماز سے پیشتر کچھ عرصہ طاعون اور مخالفین کا ایک عذر بیٹھے رہے اور ایک شخص طاعون کے کچھ حالات حضرت کو سنا تا رہا کہ جب لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ تم مسیح موعود کو مان لو تو اس سے محفوظ رہو گے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کو کیوں نہ مانیں جو اس کے ایک بندے کو جا کر مانیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی یہی کہا کرتے تھے۔ ( بوقت ظهر ) اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب نے آئینہ کمالات اسلام کا اثر ایک عرب پر جناب ابوسعید عرب صاحب احمدی تاجر برنج رنگوں برہما کے حالات حضرت کو سنائے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اول اول عرب صاحب ایک بڑے آزاد مشرب اور نیچریت کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے پھر کتاب آئینہ کمالات اسلام کسی طرح ان کی نظر سے گذری تو اس نے اس سلسلہ کی طرف توجہ دلائی اور سلسلہ کی طرف توجہ دلائی اور حقیقت اسلام ان پر پر منکشف ہوئی۔ حضرت صاحب پھر خود عرب صاحب سے ان کے حالات دریافت کرتے رہے اور پوچھا کہ آپ کتنے دن تک رہ سکتے ہیں۔ عرب صاحب نے بیان کیا کہ میں نے کلکتہ سے سیکنڈ کلاس کا واپسی ٹکٹ لیا ہے جس کی میعاد جنوری ۱۹۰۳ ء تک ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ میری بڑی خوشی ہے کہ آپ اس دن تک ٹھہریں جب تک کہ ٹکٹ اجازت دیتا ہے۔ البدر جلد نمبر ۹ مورخه ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۶ ۶۶