ملفوظات (جلد 3) — Page 437
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز شنبه ۴۳۷ جلد سوم عصر کے وقت نماز سے پیشتر ایک ایک ہندو تاجر کی حضرت اقدس سے عقیدت ہندو صاحب سود اگر پارچہ امرتری نے آکر حضرت اقدس سے نیاز مندانہ طور پر نیاز حاصل کی اور استفسار پر اس نے جواب دیا کہ ہم امرتسر میں ایک بڑے سوداگر ہیں ۔ اس طرف تمام علاقہ میں ہماری دوکان سے کپڑا آتا ہے میں اپنی آسامیوں سے روپیہ وصول کرنے آیا تھا میرے بھائی نے کہا تھا کہ حضور کی قدم بوسی کرتا آؤں ۔ پھر عصر کی نماز ہوئی اور ہند و صاحب الگ ایک گوشے میں بیٹھے رہے۔ بعد نماز وہ پھر نیاز حاصل کر کے اور دست بوسی کر کے رخصت ہوئے۔ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خواب اپنا عرض کیا جس میں انہوں نے بجلی چمکنے کی تعبیر بھی دیکھی تھی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ شائد کوئی تین برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے بھی ایک خواب دیکھا کہ اب جس مقام پر مدرسہ کی عمارت ہے وہاں بڑی کثرت سے بجلی چمک رہی ہے بجلی چمکنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ وہاں آبادی ہوگی ۔ لے ۱۴ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبه ( بوقت ظهر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو لاہور سے چند ایک احباب تشریف لائے ہوئے تھے جن کے نام یہ تھے شیخ رحمت اللہ صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، میر محمد اسماعیل صاحب، حکیم نور محمد صاحب اور برہما سے سید ابوسعید صاحب تاجر برنج رنگون ۔ ان سب نے حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی ۔ ایک صحابی کے دانت میں سخت درد تھی ۔ حضرت نے فرمایا کہ دانت درد کا علاج اس کے لئے مجرب علاج یہ ہے کہ ایک بوٹی بنام کارا بارا نہر کے کنارے البدر جلد ا نمبر ۸ مورخه ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۸