ملفوظات (جلد 3) — Page 421
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۱ جلد سوم ساتھ ساتھ تو نہیں پھرتے کہ ان کو خوف رہے۔ انسان اپنے آپ کو اکیلا : را کیلا خیال کر کے گناہ کرتا ہے ورنہ ا ا وہ کبھی نہ کرے اور جب وہ اپنے آپ کو اکیلا سمجھتا ہے اس وقت وہ دہر یہ ہوتا ہے اور یہ خ ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ خدا میرے ساتھ ہے وہ مجھے دیکھتا ہے ورنہ اگر وہ یہ سمجھتا تو گناہ نہ کرتا۔ تقویٰ سے سب شے ہے قرآن نے ابتدا اسی سے کی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) سے بھی مراد تقویٰ ہے۔ کہ انسان اگر چہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اسی سے آئندہ کے لئے استعانت طلب کرتا ہے۔ پھر دوسری سورت بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ سے شروع ہوتی ہے۔ نماز ، روزہ ، تقویٰ کے ثمرات زکوۃ وغیرہ سب اس وقت قبول ہوتا ہے جب انسان متقی ہو۔ اس وقت خدا تمام داعی گناہ کے اٹھا دیتا ہے۔ بیوی کی ضرورت ہو تو بیوی دیتا ہے۔ دوا کی ضرورت ہوتو دوا دیتا ہے۔ جس تھے کی حاجت ہو وہ دیتا ہے اور ایسے مقام سے روزی دیتا ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی ۔ ایک اور آیت قرآن شریف میں ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة: (۳) اس سے بھی مراد متقی ہیں ثُمَّ اسْتَقَامُوا یعنی ان پر زلزلہ آئے ، ابتلا آئے ، آندھیاں چلیں مگر ایک عہد جو اس سے کر چکے اس سے نہ پھرے۔ پھر آگے خدا فرماتا ہے کہ جب انہوں نے ایسا کیا اور صدق اور وفا دکھلایا۔ تو اس کا اجر یہ ملا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ المليكة یعنی ان پر فرشتے اترے اور کہا کہ خوف اور حزن مت کرو تمہارا خدا متوتی ہے۔ وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة: ۳۲) اور بشارت ) بشارت دی کہ تم خوش ہو اس جنت سے اور اس جنت سے یہاں مراد دنیا کی جنت ہے جیسے ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُنِ (الرحمن : ۴۷) پھر آگے ہے نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ( حم السجدۃ:۳۲) دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ولی اور متکفل ہیں۔ بعض لوگ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُن کی آیت کے معارض مومن کی دنیوی زندگی ایک حدیث پیش کیا کرتے ہیں الدُّنْیا سجن المومن اس کے سِجْنُ لِلْمُؤْمِنِ