ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 420

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۰ جلد سوم یہ مخالفت نہ ہوتی تو اس زور شور سے تحریک اور تبلیغ نہ ہوتی ۔ کے ایک ذرہ حرکت اور سکون نہیں کر سکتا جب تک آسمان پر اول حرکت وجودی فرقہ کی حالت نہ ہوں۔ ذلت وجودی کی اس سے ہے کہ وہ اس مقام پر لغزش کھا جاتا ہے۔ طریق تأدب یہ تھا کہ اس مقام پر ٹھہر جاتے اور جو فرق عبد اور معبود کا ہے اس سے آگے نہ بڑھتے ۔ مگر وہ ایسے طریق پر ہیں کہ عملی حالت میں رہے جاتے ہیں۔ نماز روزہ سے آخر کار فارغ ہو بیٹھتے ہیں ۔ بھنگ وغیرہ مسکرات استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔ دہریت میں اور ان میں انیس بیس کا فرق ہے اور ان کی بیبا کی دلالت کرتی ہے کہ اس فرقہ میں خیر نہیں ہے۔ عیسائیوں نے ایک کو خدا بنا کر آگ لگائی اور انہوں نے ہر ایک وجود کو خدا بنایا۔ ہندوؤں پر بھی ان کا بداثر پہنچا ہے حرمت کی پروا نہیں ہے۔ اس لئے مناہی وغیرہ سب جائز رکھتے ہیں ۔ صورت پرست ہوتے ہیں نامحرموں پر بد نظری کرتے ہیں اس زمانہ کا بگاڑ سخت ہے۔ اصل تقویٰ جس سے انسان دھویا جاتا ہے اور صاف اصل تقولی دنیا سے اُٹھ گیا ہے ہوتا ہے اور جس کے لئے انبیاء آتے ہیں وہ دنیا سے اٹھ گیا ہے کوئی ہو گا جو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشمس : ١٠) کا مصداق ہوگا۔ پاکیزگی اور طہارت عمدہ تھے ہے انسان پاک اور مطہر ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ لوگوں میں اس کی قدر نہیں ہے ور نہ ان کی لذات کی ہر ایک شئے حلال ذرائع سے ان کو ملے۔ چور چوری کرتا ہے کہ مال ملے لیکن اگر وہ صبر کرے تو خدا اسے اور راہ سے مالدار کر دے۔ اسی طرح زانی زنا کرتا ہے اگر صبر کرے تو خدا اس کی خواہش کو اور راہ سے پوری کر دے جس میں اس کی رضا حاصل ہو ۔ حدیث میں ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی زنا نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا جیسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تو وہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی تو بکری جتنا ایمان بھی لوگوں کا نہیں ہے اصل جڑا اور مقصود تقویٰ ہے جسے وہ عطا ہو تو سب کچھ پا سکتا ہے بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ انسان صغائر اور کبائر سے بچ سکے۔ انسانی حکومتوں کے احکام گناہوں سے نہیں بچا سکتے ۔ حکام الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷