ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 422

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۲ جلد سوم اصل معنے یہ ہیں کہ مومن کئی قسم کے ہوتے ۔ ہیں فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ (فاطر : (۳۳) مقتصد سے مراد نفس لوامہ والے ہیں اور یہ تکالیف نفس لوامہ تک ہوتی ہیں کہ اس میں انسان کے ساتھ کشاکش نفس امارہ کی ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ راحت اور آرام کی یہ بات اختیار کر اور لوامہ وہ نہیں کرتا۔ اس وقت انسان مجاہدہ کرتا ہے اور نفس امارہ کو زیر کرتا ہے اور اسی طرح جنگ ہوتی رہتی ہے حتی کہ امارہ شکست کھا جاتا ہے اور پھر نفس مطمئنہ رہ جاتا ہے۔ يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ( الفجر : ۲۹،۲۸) یعنی تو میری جنت میں داخل ہو جا اور اسی وقت ہو جا اور مومن کی جنت خود خدا ہے۔ یعنی جب وہ خدا کے بندوں میں داخل ہوا، تو خدا تو انہیں میں ہے۔ اور وہ اس کے عباد میں آگیا تو اب اس حالت میں وہ سجن کہاں رہا؟ ایک مرتبہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک وہ تکالیف میں ہوتا ہے جیسے جب کنواں کھودا جاوے تو اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ پانی نکل آوے مطمئنہ ہونا اصل میں پانی نکالنا ہے۔ جب پانی نکل آیا۔ اب کھودنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس آیت میں ظالم سے مراد نفس اتارہ والے اور مقتصد سے مراد لوامہ والے اور سابق بالخیرات سے مراد مطمئنہ والے ہیں۔ یہ ہوتی پوری تبدیلی زندگی میں جب تک نہ آوے تب تک جنگ رہتی ہے اور لوامہ تک یہ جنگ ہے جب ی ختم ہوئی تو پھر دار تنظیم میں آجاتا ہے۔ اس وقت اس کا ارادہ خدا کا ارادہ اس کی مرضی خدا کی مرضی ہے اور ان باتوں میں لذت اٹھاتا ہے جن سے خدا خوش ہوتا ہے۔ ایک عارف جس کی خدا سے ذاتی محبت ہو جاوے تو اگر خدا اسے بتلا بھی دیوے کہ تو دوزخی ہے خواہ عبادت کر خواہ نہ کر تو اس کی خوشی اسی میں ہو گی کہ خواہ دوزخ میں جاؤں مگر میں ان عبادات سے رک نہیں سکتا جیسے افیونی کو جب افیون کی عادت ہو جاتی ہے تو اسے کیسی ہی تکالیف ہوں اور خواہ گھلتا ہی جاتا ہے مگر افیون کو نہیں چھوڑتا۔جس طرح دنیا میں نو جوانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کو ایک دھن جب لگ جاوے تو خواہ والدین کتنار و کیں منع کریں مگر وہ کسی کی نہیں سنتے اور اس دھن کی خوشی میں تکالیف کا بھی خیال نہیں ہوتا۔ ایسا ہی اس مومن عارف کامل کا حال ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اجر ملے گا یا نہیں۔ یہ مقام آخری