ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 417

ملفوظات حضرت مسیح موعود حال اس وقت تھا۔ ۴۱۷ جلد سوم ابو جہل کو فرعون کہا گیا ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ تو فرعون سے بڑھ کر ہے فرعون مکہ کے دو عمرو نے تو آخر کہا کہ امنت أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاءِيلَ (یونس : ۹۱) مگر یہ آخر تک ایمان نہ لایا مکہ میں سارا فساد اسی کا تھا اور بڑا متکبر اور خود پسند۔ عظمت اور شرف کو چاہنے والا تھا اس کا اصل نام بھی عمرہ تھا اور یہ دونوں عمر و مکہ میں تھے خدا کی حکمت یہ کہ ایک عمرو کو تو کینچ لیا اور ایک بے نصیب رہا اس کی روح تو دوزخ میں جلتی ہوگی اور حضرت عمرو نے ضد چھوڑ دی تو بادشاہ ہو گئے۔ سورۃ الکوثر کی تفسیر جیسے ان شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ (الکوثر (۴) آنحضرت کے حق میں ہے ایسا ہی میرا بھی یہ الہام ہے۔ یہ کم بخت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی اور روحانی طور پر ہر دو طرح ابتر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ ( الكوثر : ٢) یہاں کوثر کا قرینہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ ہے۔ نحر اولاد کے لئے ہوتا ہے کہ جب عقیقہ ہوتا ہے تو قربانیاں دیتے ہیں ۔ پس اگر نبی کریم کی اولاد نہ روحانی ہوئی نہ جسمانی تو نحر کس کے لئے آیا؟ اس وقت قرآن کی عظمت بالکل دلوں میں نہیں رہی عبداللہ غزنوی عبداللہ غزنوی کا الہام صاحب کا بھی ایک کشف ہے جو اس کے متعلق تھا کہ اس میں ان کو الہام ہوا تھا کہ هَذَا كِتَابِي هَذَا عِبَادِي فَاقْرَأْ كِتَابِي عَلَى عِبَادِی ۔ عمر سے کسی نے پوچھا کہ آپ بڑے غصہ والے ہوتے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ تھے اب غصہ مسلمان ہونے سے دور ہو گیا فرمایا۔ دور تو نہیں ہوا منعقد ہو گیا ہے اور اب اپنے ٹھکانے پر چلتا ہے۔ ہے لے الحکم میں ہے ۔ ابو جہل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرعون کہا وہ پرلے درجہ کا متکبر اور سرکش اور بے دین تھا کیونکہ اول تو اس کو ایمان نصیب نہ ہوا ۔ دوسرے سر کاٹنے والے کو کہا کہ ذرا گردن لمبی کر کے کاٹنا تا کہ دوسروں سے یہ سر بڑا دکھائی دے ۔ گویا مرتے دم تک تکبر نہ چھوڑا (الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۰