ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 416

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۶ جلد سوم مخالفت نفس بھی ایک عبادت ہے انسان سویا ہوا مخالفت نفس بھی ایک عبادت ہے ہوتا ہے جی چاہتا ہے کہ اورسولے مگروہ مخالفت نفس کر کے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھی ایک ثواب ہے اور ثواب نفس کی مخالفت تک ہی ہوتا ہے ورنہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو پھر ثواب نہیں ہوتا۔ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ جب نفس مطمئنہ ہو گیا اما رہ نہ رہا تو ثواب کیسے رہا۔ نفس کی مخالفت کرنے سے ثواب تھا وہ اب رہی نہیں ۔ قرآن شریف میں ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُن بے صبر نہیں ہونا چاہیے (الرحمن : ۴۷) یعنی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور اسکا درجہ ثواب کا نہ رہا تو یہ بات بے صبری سے نہیں ملتی ۔ انسان کو یہاں تک صبر کرنا چاہیے کہ اس کا دل یقین کر لے کہ میرے جیسا کوئی صابر نہیں۔ آخر خدا تعالیٰ مہربان ہو کر دروازہ کھول دیتا ہے اسی طرح ایک اور بزرگ بن کا قول ہے جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو تمام عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ عبادات ترک کر دیتا ہے بلکہ یہ ہیں کہ عبادات کی بجا آوری میں جو اسے تکلیف ہوتی تھی وہ ساقط ہو جاتی ہے۔ اب عبادات محبوبات نفس میں شامل ہو گئیں جیسے اور کھانا پینا وغیرہ اس کے محبوبات نفس تھے ایسے ہی نماز ، روزہ ہو گیا۔ خدا تعالیٰ جیسا وفادار اور کوئی نہیں ۔ دوستی اور اخلاص کا حق جیسے وہ ادا کر سکتا ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ انسان بڑے جوش والا ہے وہ صبر سے حقوق ادا نہیں کر سکتا جلدی بے صبر نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ وقتاً فوقتاً ہمارے پاس آتے رہیں اور کچھ دن یہاں رہا صحبت کا اثر کریں۔ انسان کا دماغ جیسے خوشبو سے حصہ لیتا ہے ویسے ہی بد بو سے بھی حصہ لیتا ہے اسی طرح زہریلی صحبت کا اثر اس پر ہوتا ہے۔ مخالفین کی موجودہ حالت پر فرمایا کہ مکہ معظمہ کی حالت کا تو کسی نے معائنہ نہیں کیا مگر اب اس وقت کی حالت دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ ایسا ہی