ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 412

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۲ موجودہ حالت میں طاعون سے ہندوؤں کے زیادہ عذاب کے بارہ میں عادت اللہ مرنے پرفرمایا کہ جلد سوم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے او لَمْ يَرَوْا اَنَا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: ۴۲) ہم دور دور سے زمین کو گھٹاتے چلے آتے ہیں یہ عادت اللہ ہے کہ اوّل عذاب ایسے لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو دور دور ہوتے ہیں اور ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں۔ بیوقوف یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف انہیں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں مگر عذاب لپک کر ان تک پہنچتا ہے جن کو خبر نہیں ہوتی اور بے پروا ہوتے ہیں۔ خدا کی اس میں حکمتیں ہوتی ہیں چاہتا ہے کہ یہ اور شوخی کر لیں لوگوں کو اس طاعون کی خبر نہیں ہے وہ مجھے لکھتے ہیں اور اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک مرض ہے جس کا علاج ہو سکتا ہے۔ اب ان کو لازم ہے کہ ڈاکٹروں سے علاج کرائیں ۔ آخر سول نے لکھ دیا کہ ہم کہاں تک اس پر پردہ ڈالیں خود گورنمنٹ کو بھی اس ٹیکہ سے تکلیف پہنچی ہے۔ فرمایا۔ طاعون کی اقسام طاعون تین قسم کی ہے ایک خفیف جس میں صرف گلٹی لگتی ہے اور تپ نہیں ہوتا۔ دوسری اس سے تیز کہ جس میں گلٹی کے ساتھ تپ بھی ہوتا ہے۔ تیسری سب سے تیز اس میں تپ نہ گلٹی آدمی سویا اور مر گیا۔ ہندوستان کے بعض دیہات میں ایسا ہی ہوا ہے کہ دس آدمی رات کو سوئے تو صبح کو مرے ہوئے پائے ۔ اس کا اصل باعث طعن ہے یہ لوگ ٹھٹھہ کرتے ہیں مگر ان کو عنقریب پتہ لگ جائے گا جو مخالف بکواس کیا کرتے ہیں ان پر یک لخت پتھر نہیں پڑا کرتے۔ اول ان کو دور سے آگ دکھلائی جاتی ہے تا کہ وہ تو بہ کریں۔ شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی حضور خدا تعالیٰ اس وقت اپنا چہرہ دکھلانا چاہتا ہے اب بھی مخالف یہی کہتے ہیں کہ ہمیں طاعون کیوں نہیں ہوتی ۔ فرمایا کہ قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ لوگ خود عذاب طلب کرتے تھے کمبخت یہ تو نہیں کہتے کہ دعا کرو