ملفوظات (جلد 3) — Page 413
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۳ جلد سوم خدا کہ ہمیں ہدایت ہو جاوے طاعون ہی مانگتے ہیں دراصل یہ لوگ دہر یہ ہیں خدا پر ان کو ایمان نہیں ہے اس وقت اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔ اس وقت جس قدر عیاشی وفسق و فجور ، حقوق العباد میں ظلم و ہو رہے ہیں کیا اس کی کوئی حد ہے۔ ہمیں بعض کہتے ہیں کہ اور دوکانداروں کی طرح ایک دوکاندار ہے وغیرہ مگر عنقریب خدا ان کو بتلا دے گا کہ دکان تو ہے مگر خدا کی دکان ہے ایک صریح کشش آسمان سے ہے اور صریح خدا کے ارادے معلوم ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ یہ میرا ایک پرانا الہام ہے۔ افلا قادیان آنے والا ہر تحفہ اور نذرا یک نشان ہے يَتَدَبَّرُونَ أَمْرَكَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا براہین کے وقت سے اب اسے دیکھو کہ کیسا برابر ایک سلسلہ چلا آرہا ہے میں اس امر پر ایک دفعہ غور کرتا رہا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ان دونوں الہاموں میں کیا مناسبت ہے تو معلوم ہوا کہ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عمیق سے یہ خیال پیدا ہوا کہ جب اس قدر لوگ آئیں گے تو ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام بھی چاہیے تو آگے بتلایا گیا کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی وہ اپنے کھانے دانے بھی اپنے ہمراہ لاویں گے قادیان کے لوگ خوب واقف ہیں کہ اس وقت کیا حالت تھی ۔ کیا یہ انسان کا کام ہے کہ مدت دراز کے بعد جو بات ہونے والی تھی وہ اس قدر پیشتر بتلائی گئی ۔ اسی لئے جو شخص آتا ہے اور جو تحفہ اور نذر وہ لاتا ہے ہر ایک، ایک نشان ہوتا ہے اور اگر اس طرح سے ہم حساب کریں تو نشانات پچاس لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔ ایک شخص نے اپنی خانگی تکالیف کا ذکر کیا۔ فرمایا کہ تکالیف کے ازالہ کا طریق پورے طور پر خدا پر توکل یقین اور امید رکھو تو سب کچھ ہو جاوے گا اور ہمیں خطوط سے ہمیشہ یاد کراتے رہا کر وہم دعا کریں گے۔ البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۷