ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 411

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۱ جلد سوم تذبذب میں رہتا ہے مگر جب ان کی چہکار نظر آتی ہے تو سینہ کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ اب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کا تزکیہ نفس کرنے لگا ہے اولیاء خدا کے وفادار بندے ہی ہوا کرتے ہیں اور کون ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک الہام ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ یہ بات بھی کیسی پوری ہوئی طاعون بھی آگ ہے حدیث میں آیا ہے کہ بہشتی ایک دفعہ دوزخ کی سیر کو جاویں گے اور ایک پیر آگ پر رکھیں گے کہ کس طرح جلاتی ہے تو آگ کہے گی اے مومن ! ذرا پیچھے ہٹ جاتو تو مجھے بجھاتا ہے۔ عصر کی نماز سے پیشتر آپ نے تھوڑی دیر مجلس فرمائی اور ایک خواب بیان کیا۔ جسے دیکھے ایک رؤیا ہوئے قریب دو ہفتے گزرے تھے وہ خواب یہ ہے کہ ایک مقام پر میں کھڑا ہوں تو ایک شخص آکر چیل کی طرح جھپٹا مار کر میرے سر سے ٹوپی لے گیا پھر دوسری بار حملہ کر کے آیا کہ میرا عمامہ لے جاوے مگر میں اپنے دل میں مطمئن ہوں کہ یہ نہیں لے جا سکتا۔ اتنے میں ایک نحیف الوجود شخص نے اسے پکڑ لیا مگر میرا قلب شہادت دیتا تھا کہ یہ شخص دل کا صاف نہیں ہے۔ اتنے میں ایک اور شخص آگیا جو قادیان کا رہنے والا تھا اس نے بھی اسے پکڑ لیا میں جانتا تھا کہ موخر الذکر ایک مومن متقی ہے پھر اسے عدالت میں لے گئے تو حاکم نے اسے جاتے ہی چار یا چھ یا نو ماہ کی قید کا حکم دے دیا۔ ( بوقت مغرب ) نور بخش صاحب نے بیعت کی اور عرض کیا کہ الحکم میں لکھا ہوا دیکھا غیروں کی مساجد میں نماز ہے کہ غیر از جماعت احمدیہ کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ فرمایا۔ ٹھیک ہے اگر مسجد غیروں کی ہے تو گھر میں پڑھ لو۔ اکیلے پڑھ لو۔ حرج نہیں اور تھوڑے سے صبر کی بات ہے۔ قریب اللہ تعالیٰ ان کی مسجدیں برباد کر کے ہمارے حوالہ کر دے گا۔ آنحضرت کے زمانہ میں بھی کچھ عرصہ صبر کرنا پڑا تھا۔