ملفوظات (جلد 3) — Page 410
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۰ جلد سوم ایک دو دن اور ٹھہر جاویں اور دیکھ لیں ۔ ذرا طبیعت ٹھیک ہو جاوے تو ان موتوں کے مفصل حالات دریافت کر کے پھر اللواء کو پیش کیا جاوے کیونکہ یہ اس کے لئے ایک بڑا تا زیا نہ ہوگا یہ اللہ کی طاقتیں ہیں اور اسی کا کام ہے۔ تعجب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کے چمکانے اور ہمارے اس سلسلہ کی تائید میں اس سلسلہ کی تائید قدر کثرت سے زور دے رہاہے اور پھر بھی ان لوں کی آنکھیں نہیں ملتیں۔ یہ بھی ایک عادت اللہ ہے کہ مکذبین کی تکذیب خدا کے نشانات کوکھینچتی ہے۔ جب ان کی تکذیب ٹھنڈی ہو جاوے گی تو یہ نشانات بھی ٹھنڈے پڑ جاویں گے۔ برسات میں جس قدر گرمی زیادہ ہوتی ہے اسی قدر بارش زور سے ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت کا نظارہ دکھلا دیا ہے۔ کیا کیا کچھ کیا ہے ہماری تائید میں آسمان کو چھوڑا نہ زمین کو مگر ان لوگوں نے کسی بات سے فائدہ نہ اٹھا یا ہمیشہ سے ان لوگوں کا نہ کو گران بات فائدہ نہ اٹھایا خیال تھا کہ صدی کے سر پر کوئی آیا کرتا ہے اس میں سے بھی ہیں سال گزر گئے مگر آج تک ان کی سمجھ میں نہ آیا۔ اب تو قیامت کا سامنا باقی ہے اور تو کوئی کسر باقی نہیں۔ ایک مخالف نے ایک دفعہ مجھے خط لکھا کہ آپ کی مخالفت میں لوگوں نے کچھ کمی نہیں کی مگر ایک بات کا جواب ہمیں نہیں آتا کہ باوجود اس مخالفت کے آپ ہر بات میں کامیاب ہی ہوتے جاتے ہیں یہ تائید کیوں ہوتی ہے؟ ایمان کی لذت بھی یہی ہے کہ خدا کی نصرتوں کو انسان آنکھوں سے دیکھ لے ایمان کی لذت جب آنکھیں کھلتی ہیں جب انسان سجھ لیتا ہے کہ سچ یہی ہے تو پھر اس پر مرنے کو بھی تیار ہو جاتا ہے جب تک کے خدا کی نصرتیں چمک کر ظاہر نہیں ہوتیں اس وقت تک تو ل الحکم میں اس جگہ مزید مضمون بیان ہوا۔ مزید مضمون بیان ہوا ہے جو البدر میں نہیں البدر کی باقی ڈائری الحکم کی نسبت زیادہ مفصل ہے مگر ذیل کا مضمون اس میں نہیں الحکم میں لکھا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ دو پہلو غور کے لائق ہیں اول یہ کہ میں سال ہوئے جبکہ ہمارے پاس ایک شخص بھی نہ تھا اور اس وقت پیشگوئی ہو رہی تھی کہ تیرے ساتھ ایک جماعت کثیر ہوگی ۔ دوم ۔ مخالفوں کو بار بار کہا جاتا ہے کہ جس قدر شرارتیں اور مکر و فریب تم کر سکتے ہو کر و۔ پھر ہم اس کو بڑھا کر دکھا دیں گے جیسے فرما یا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَ انْتَهَى أَمْرُ الزَّمَانِ أَلَيْسَ هُذَا بِالْحَقِّ یعنی اس وقت ہم ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہ ہماری بات اور ہمارا سلسلہ سچا نہ تھا۔" (الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶)