ملفوظات (جلد 3) — Page 405
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٢٠ جلد سوم یہ طاعون کوئی مرض نہیں ہے صرف لوگوں کو سیدھا کرنے آئی ہے تم اس کے سیدھے طاعون کرنے سے سیدھے نہ بنو بلکہ خدا، ھے نہ بنو بلکہ خدا کے واسطے سیدھے ہو جاؤ تا کہ شرک سے بری رہو۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے صرف غریب لوگ ہی مرتے ہیں۔ یہ ایک اور بد قسمتی ہے بجائے عبرت پکڑنے کے الٹا اعتراض کرتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ صرف بیماری ہے اس کو نماز روزے سے کیا تعلق ہے۔ ڈاکٹروں سے علاج کرانا ۔ علاج کرانا چاہیے غرضیکہ بیبا کی کی یہاں تک نوبت پہنچی ہوئی ہے اور طاعون تو خدا کا ایک آئینہ ہے جس میں خدا اپنا چہرہ دکھائے گا۔ یا د رکھو کہ طاعون کا نام خدا نے رحمت نہیں رکھا کہ اس سے مرنے والا شہید ہو۔ یہ تو زمانہ تحدی کا ہے بطور نشان کے آئی ہے مومن اور غیر مومن میں فرق کر کے جاوے گی۔ اس کا نام رجز ہے اور میرے الہام میں بھی اسے غضب کہا گیا ہے آج سے تیرہ سو برس پیشتر قرآن میں اس کی خبر ہے اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ كلمهم الخ ( العمل : ۸۳) یعنی جب گمراہی اور ضلالت کا زمانہ ہوگا ایسے وقت میں لوگوں کا ایمان خدا پر صرف ایک بچوں کے کھیل کی طرح ہوگا۔ تب ہم ان میں ایک کیڑا نکالیں گے جوان کو کاٹے گا غرض یہ خدا کا ایک قہر ہے جس سے بچنے کے واسطے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنی نجات کا آپ سامان کرے۔ ۲۶ نومبر ۱۹۰۲ء بروز چهارشنبه ( بوقت مغرب ) حضرت اقدس مسجد کے گوشے میں جلوہ افروز ہوئے اور چند ایک خدا تعالیٰ کی طرف رجوع زوار احباب نے بیعت کی۔ طاعن کے ذکر پر فرمایا کہ نو ۔ جو خدا کی طرف رجوع کرتا ہے خدا اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جولا پر وا ہے خدا اس سے لا پروا ہے اب اس وقت بھی جو نہ سمجھے تو اس کی قسمت ہی بد ہے۔ بیعت میں تین نوجوان ایسے بھی شامل تھے جو کہ صرف ایک دن کی چند نو جوانوں کا اخلاص رخصت پر آئے تھے عصر کے وقت قادیان میں پہنچے اور اگلے روز ل البدر جلد ا نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۳۹،۳۸