ملفوظات (جلد 3) — Page 404
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ولد جلد سوم عالمگیر موت جو آتی ہے اس کا علاج بجز ایمان کے صیقل اور یقین کی جلا کے ہر گز ممکن نہیں ۔ یہ زمینی چیز نہیں ہے کہ زمین اس کا علاج کرے یہ آسمان سے آتی ہے اور طاعون کا علاج اسے کوئی روک نہیں سکتا یہ رجز مِنَ السَّمَاءِ ہے سابقہ انبیاء کے وقت بھی یہ بطور عذاب کے ایک نشان ہوتا رہا ہے پس اس کا علاج یہی ہے کہ اپنے ایمان کو اس کی انتہائی غایت تک پہنچا دو۔ اس کے آنے سے پیشتر اس خدا سے صلح کرو۔ استغفار کرو۔ تو بہ کرو۔ دعاؤں میں لگو۔ اس کی کوئی دوائی نہیں ہے مرض ہو تو دوا ہو۔ یہ تو ایک عذاب الہی اور قہر ایز دی ہے بجز تقویٰ کے اس کا کیا علاج ہے؟ یا د رکھو کہ اگر گھر بھر میں ایک بھی متقی ہو گا تو خدا اس کے سارے گھر کو بچاوے گا بلکہ اگر اس کا تقویٰ کامل ہے تو وہ اپنے محلے کا بھی شفیع ہو سکتا ہے اگر چہ متقی مر بھی جاوے تو وہ سیدھا جنت میں جاتا ہے مگر ایسے وقت میں جبکہ یہ موت ایک قہر الہی کا نمونہ ہے اور بطور نشان کے دنیا پر آتی ہے ہاتا ہے میں ایک قبر میرا دل ہر گز شہادت نہیں دیتا کہ کوئی متقی اس ذلت کی موت سے مرے۔ متقی ضرور بچایا جاوے گا۔ کشتی نوح کا بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بناؤ میں نے بارہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم نرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا ۔ اس کی حقیقت تک جب تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں ۔ قشر پر صبر کرنے والا مغز سے محروم ہوتا ہے اگر مرید خود عامل نہیں تو پیر کی بزرگی اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ جب کوئی طبیب کسی کو نسخہ دیوے اور وہ نسخہ لے کر طاق میں رکھ دیوے تو اسے ہرگز فائدہ نہ ہوگا کیونکہ فائدہ تو اس پر لکھے ہوئے عمل کا نتیجہ تھا۔ جس سے وہ خود محروم ہے۔ کشتی نوح کو بار بار مطالعہ کرو اور اس کے مطابق اپنے آپ کو بناؤ ۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ ركها (الشمس : ١٠) ۔ یوں تو ہزاروں چور، زانی، بدکار، شرابی ، بد معاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا وہ در حقیقت ایسے ہیں؟ ہرگز نہیں اُمتی وہی ہے جو آپ کی تعلیمات پر پورا کار بند ہے۔