ملفوظات (جلد 3) — Page 398
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۸ جلد سوم ۲۰ رنومبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبه فرمایا۔ پکٹ کے متعلق ایک رویا رات کو میں نے پاٹ کے متعلق دعا کی اورصبح بھی کی۔ مجھے یہ دکھایا گیا کہ کسی نے مجھے چار پانچ کتابیں دی ہیں جن پر لکھا ہوا تھا۔ تسبیح تسبیح تسبیح بعد اس کے الہام ہوا اللهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ إِنَّهُمُ لَا يُحْسِنُونَ - اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی موجودہ حالت خراب ہے اور یا آئندہ تو بہ نہ کریں گے۔ اور یہ معنے بھی اس کے ہیں لا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ اور یہ مطلب بھی اس سے ہے کہ اس نے یہ کام اچھا نہیں کیا اللہ تعالیٰ پر یہ افترا اور منصوبہ باندھا اور اللهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور عذاب الہی میں گرفتار ہو گا حقیقت میں یہ بڑی شوخی ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا جاوے۔ چکڑالوی کے ذکر آنے پر معلوم ہوا کہ اس نے وہابیوں اور چکڑالویوں کا افراط و تفریط نماز میں بھی کچھ رد و بدل کی ہے التحیات اور درود شریف کو نکال دیا ہے اور بھی بعض تبدیلیاں کی ہیں ۔ حضرت اقدس نے چکڑالوی کے فتنے کو خطرناک قرار دیا اور آپ کی رحمت اور حمیت اسلامی نے تقاضا کیا کہ اس کے متعلق ایک اشتہار بطور محاکمہ کے لکھا جاوے جس میں یہ دکھایا جاوے مولوی محمد حسین نے اور اس نے افراط اور تفریط کی راہ اختیار کی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو صراط مستقیم پر رکھا ہے۔ فرمایا۔ نبی ہمیشہ دو چیزیں لے کر آتے ہیں۔ کتاب اور سنت ۔ ایک خدا کا کلام ہوتا ہے اور دوسرے سنت۔ یعنی اس پر عمل کر کے دکھا دیتے ہیں دنیا کے کام بھی بغیر اس کے نہیں چل سکتے دقیق مسائل جو استاد بتاتا ہے پھر اس کو حل کر کے بھی دکھا دیتا ہے پس جیسے کلام اللہ یقینی ہے سنت بھی یقینی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو صراط مستقیم پر کھڑا رکھا ہے وہابیوں نے افراط کی۔ قرآن پر حدیث کو قاضی ٹھہرایا اور قرآن کو اس کے آگے مستغیث کی طرح کھڑا کر دیا اور چکڑالوی نے تفریط کی کہ بالکل ہی