ملفوظات (جلد 3) — Page 397
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۷ جلد سوم اگر ایں دوناں را عقل بودے میدانندے ۔ انسان ہماں باشد که طالب مغز شود نه که پوست همہ ابدال طالب مغز شده اند ایمان ہمیں است که ایشان میخواهند که چشم آنها بینا شود نه که کور باعث مغضوب شدن اہل اسلام چیست ہمیں کہ از زبان میگویند که ایمان آوردیم و در دل بیچ شیئے نیست و ہمیں معنے ایں آیت است ما قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الحج : ۷۵)۔ وہمیں نابینائی کہ ذکر کردیم موجب فسق و فجور است و برائے ہمیں بینائی خدا وند تعالیٰ این سلسله را قائم کرده است که باز آن بینائی که رفته هست پیدا شود خدا می خواهد که ۔۔۔ ثابت کند که آن نبی صلی اللہ علیہ وسلم زنده است و افادہ آں ہم زنده است اگر این نبود کدام فرق در نصاری و اسلام است آن مرده و ایں ہم مردہ۔ آں قصہ و حکایت است ایں ہم قصہ و حکایت است اندریں صورت فیصلہ چگونه شود ۔ خدا تعالیٰ ارادہ فرماید که آن برکات سماویہ بنماید و اگر مردے مثل آں ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) نمی آید چگونه بنماید ایں ہمہ کار خدا است ما بندگانیم و پیچ امید فتح و شکست نداریم - او خوب می داند که کدام شوریده است بهر مصلحتی که خواهد خواهد کرد اے اگر ان کم ظرف لوگوں کو عقل ہوتی تو جانتے کہ انسان وہ ہوتا ہے کہ جو مغز کا طالب ہو نہ کہ چھلکے کا۔ سارے کے سارے ابدال ہمیشہ طالب مغز ہوئے ہیں ۔ ایمان یہی ہے کہ وہ اس بات کے طالب رہیں کہ ان کی آنکھیں بینا ہوں نہ کہ اندھی ۔ اہلِ اسلام کے مغضوب ہونے کا باعث کیا ہے؟ یہی کہ زبان سے کہتے ہیں کہ ایمان لائے اور دل میں کچھ بھی نہیں اور یہی معنے اس آیت کے ہیں مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ اور یہی وہ نابینائی ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے جو فسق و فجور کا موجب ہے اور اسی بینائی کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے کہ وہ بینائی جو چلی گئی ہے اس کو واپس لائے خدا چاہتا ہے کہ یہ ثابت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور ان کا افادہ بھی زندہ ہے اگر یہ نہ ہو تو نصاری اور اسلام میں کیا فرق رہ جاتا ہے وہ بھی مردہ یہ بھی مردہ ۔ وہ بھی قصہ اور کہانی اور یہ بھی قصہ و کہانی اس صورت میں فیصلہ کس طرح ہوگا ۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ برکات سماویہ کا اظہار کرے اور اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی انسان نہ آئے تو کس طرح ظاہر کرے۔ یہ سارا کام تو خدا کا ہے ہم تو بندے ہیں فتح و شکست کی کوئی امید نہیں رکھتے وہ خوب جانتا ہے۔ کہ کون شوریدہ سر ہے اور اپنی جس مصلحت سے چاہے گا اسے کرے گا ۔ ( ترجمہ از مرتب ) البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۶،۳۵