ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 399

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۹ جلد سوم حدیث کا انکار کر دیا۔ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے اس کی اصلاح ضروری ہے ہم کو خدا نے حا کم ٹھہرایا ہے اس لئے ہم ایک اشتہار کے ذریعہ اس غلطی کو ظاہر کریں گے اور مضمون پیچھے لکھیں گے۔ اول خویش بعد درویش جس راہ پر خدا تعالیٰ نے ہم کو چلایا ہے اس پر اگر غور کی جاوے تو ایک لذت آتی ہے قرآن شریف نے کیا ٹھیک فیصلہ فرمایا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ( المرسلات: ۵۱) اور دوسری جگہ فرمایا فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَأَيْتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاثية :) یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے جو ان وہابیوں کے متعلق ہے اور سنت کی نفی کرنے والوں کے لئے فرما یا إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء بروز جمعه لو شیخ رحمت اللہ صاحب مالک ممبئی ہوس لاہور سے مخاطب ہو کر ان لندن میں اوّل ولد الاسلام سے ان کے حالات اور عرصہ سفر دریافت فرمایا۔ اس کے بعد مسٹر پگٹ کی نسبت آپ نے شیخ صاحب سے استفسار فرمایا کہ آپ اس سے ملنے گئے تھے۔ شیخ صاحب موصوف نے عرض کی کہ میرے روانہ ہونے سے ایک دن پیشتر مجھے خط ملا تھا میں اسی روز اپنے دو دوستوں سمیت اس کے مکان پر گیا ۔ مگر ہمیں یہی جواب ملتا رہا کہ تم اس وقت اسے مل نہیں سکتے ۔ شیخ صاحب کو ایک اور فرزندان کی ولایتی منکوحہ سے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے جس کا نام عبد اللہ حضرت اقدس کے ارشاد کے مطابق رکھا گیا ہے اس کے حالات دریافت کر کے فرمایا کہ لنڈن میں وہ اول ولد الاسلام ہے۔ بعد ازاں طاعون اور ٹیکہ کا ذکر ہوتا رہا۔ اور ٹیکہ کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ آخر کار آسمانی ٹیکہ ہی رہ جاوے گا۔ البدر جلد ا نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۴۶ البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۴۶