ملفوظات (جلد 3) — Page 396
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۶ جلد سوم و از دین خارج می شود اگر دین بایں طور مرده است کدام توقع نجات باید داشت اگر انسان اندریں عالم تکمیل معرفت نکند چه دلیل دارد که در روز آخرت خواهد کرد بجز ایں صورت که ما پیش می کنیم دیگر صورت نیست مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعلی (بنی اسرائیل : ۷۳) از بسیار مقامات قرآن معلوم می شود که این امت خیر امت است پس کدام خیر است که در امت موسوی الہام مکالمہ و غیره می شدی و در ایں امت نمی شود و کدام مشابہت ایناں را بامت موسوی خواهد بود۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکمیل کننده این عالم اند یعنی کمال این عالم بر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ختم شده و ایں معنے ختم نبوت است کے کسے دیگر نبی نمی شود حتی کہ مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بر نبوت او نشود چنانکه مثال آن دریں دنیا دیده بود که پیچ پروانه سرکاری صدیق نمی شود حتی که مهر سرکاری بر او نبود ۔ پس ازیں آیت معلوم میشود که الله تعالی بطور جسمانی نفی ابوت مے فرماید و بطور روحانی اثبات نبوت میکند بهر حال ایمان باید آورد که برکات و افادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاری است إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) دریں آیت معنے محبت چیست ایں معنے ہرگز نیست که خدا ہر کسے را که محبت میکند دریں عالم اور اکور می دارد۔ اور دین سے خارج ہو جاتا ہے اگر دین اس طرح مردہ ہے تو نجات کی توقع کہاں کی جانی چاہیے۔ اگر انسان اس عالم میں معرفت کی تکمیل نہ کرے تو اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ آخرت کے دن اس کی تکمیل کرے گا سوائے اس صورت کے جو ہم پیش کرتے ہیں دوسری کوئی صورت نہیں ۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اعلی قرآن کریم کے کئی مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امت خیر امت ہے پس خیر کہاں؟ جبکہ امت موسوی میں تو الہام اور مکالمہ مخاطبہ الہی ہوتا رہے اور اس اُمت میں نہ ہو اور اس امت کی اُمت موسوی سے مشابہت کہاں ہوسا ہو سکتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم کے تکمیل کرنے والے ہیں یعنی اس عالم کا (روحانی) کمال آپ پر ختم ہو گیا ہے اور یہی معنے ختم نبوت کے ہیں کہ اور کوئی نبی نہیں ہوگا جب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اس کی نبوت پر نہ ہو۔ چنانچہ اس کی مثال اس عالم دنیاوی میں ہی دیکھی جا سکتی ہے کسی بھی سرکاری پروا نہ کی اس وقت تک تصدیق نہیں ہوتی جب تک اس پر سرکاری مہر نہ ہو۔ پس اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسمانی ابوت کی نفی فرماتا ہے اور روحانی طور پر نبوت کا اثبات کرتا ہے بہر حال ایمان رکھنا چاہیے کہ برکات و افادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاری ہیں ۔ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ اس آیت میں محبت کے کیا معنے ہیں؟ یہ معنے ہر گز نہیں ہیں کہ خدا جس کسی سے محبت کرتا ہے اس دنیا میں اس کو اندھا رکھتا ہے