ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 395

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۵ جلد سوم نخواهد شد ۔ حکام را ہمیں حالت است که اگر بر کاغذ مہر سرکاری نشود صحیح نمی دانند ۔ ہر کسے را کہ الہام و مکالمہ الہی مے شود از مہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مے شود وازمیں معنے رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم همه را پدر است - در در یک معنی معنی نفی تھی نبوت نبوت ۔ می شود و در یک معنی اثبات نبوت می میشو شود اگر بگویم که سلسله افادات نبوی منقطع نشده واکنوں کسے را الهام و مکالمہ و مخاطبہ الہی نمی شود همہ اسلام تباه میشود - سلسلہ مارا ایں مثال است که اگر کسے در آئینہ صورت می بیند آنچه در شیشہ نظر مے آید چیزی دیگر نیست ہماں ہست که پیش شیشه است ۔ ایں مردماں دریں آیت کریمہ غور نمی کنند و من خوب مے دانم کہ ایں ہمہ عقیدہ میدارند کہ سلسلہ مکالمات الهیه منقطع شده است - کلام بمعنے وحی است در قرآن هم ذکر الہام نیامده بلکہ ذکر وحی آمده و قطعیت الہام و وحی یک معنی دار دو نے پندارند که اگر این سلسلہ منقطع شود باقی از برکات اسلام چه مے ماند ۔ پس ہمیں معنے است که گفتم در مثال آئینه وظل که ظل همه نقوش اصل در خود دار دو ظل نبوت ہمیں طور است البته آن نبوت منقطع است که بلا توسل و سلسلہ رسول اللہ آید و ہر کسے کہ ازیں انکار می کند کا فرمیشود کی مہر لگے بغیر نہیں ہو گا دنیا میں بھی حکام کی یہی حالت ہے کہ اگر کاغذ پر سر کاری مہر نہ ہو تو وہ اس کو صیح نہیں سمجھتے ہر وہ شخص جس کو الہام یا مکالمہ الہی کا شرف حاصل ہوتا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے ہی حاصل ہوتا ہے اور ان معنوں کی رُو سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام لوگوں کے باپ ہیں۔ ایک معنی سے نبوت کی نفی کی گئی ہے اور ایک معنی سے نبوت کا اثبات کیا گیا ہے۔ اگر یہ کہیں کہ سلسلہ افادات نبوی منقطع نہیں ہوا اور اب الہام اور مکالمہ الہی کا شرف نہ ملے گا تو اسلام تباہ ہو جائے گا۔ ہمارے سلسلہ کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی آئینہ میں اپنی صورت دیکھے تو جو آئینہ میں نظر آئے گا وہ کوئی اور چیز نہ ہوگی بلکہ وہی کچھ ہوگا جو آئینہ کے سامنے ہے۔ یہ لوگ اس آیت پر غور نہیں کرتے اور میں خوب جانتا ہوں کہ یہ سب عقیدہ رکھتے ہیں کہ مکالمات الہیہ کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ۔ کلام وحی کے معنوں میں ہے۔ قرآن میں الہام کا ذکر نہیں ہے بلکہ وحی کا ذکر ہے اور الہام اور وحی قطعی طور پر طور پر ایک ہی معنے رہ معنے رکھتے ہیں اور یہ لو یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر یہ سلسلہ منقطع ہو جائے تو اسلام کی برکات میں سے کیا باقی رہ جائے گا پس یہی معنے ہیں جو میں نے اس مثال میں بیان کئے ہیں جو آئینہ اور اس کے عکس کے ہے کہ ظل (عکس) ہمیشہ اپنے اصل کے تمام نقوش اپنے اندر رکھتا ہے اور نبوت کا ظل بھی اسی طرح ہے البتہ وہ نبوت منقطع ہو گئی ہے جو بلا توسل اور سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر آتی ہے۔ اور ہر شخص جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے