ملفوظات (جلد 3) — Page 394
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۴ جلد سوم مسلمان بادشاہوں نے عربی زبان کی ترویج نہ کر کے معصیت کی اس کے بعد پھر یہ ذکر ہوتا رہا کہ آج تک بہت تھوڑے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اس امر کو محسوس کیا اور حسرت کی کہ کیوں ہندوستان کے شاہانِ اسلام نے اس ملک میں سوائے عربی کے اور اور زبانوں کو رواج دیا حالانکہ عربی ایک بڑی وسیع زبان تھی جس میں ہر ایک مطلب مکمل طور پر بیان ہو سکتا ہے اگر وہ ایسا کرتے تو یہ اسلام کی ایک بڑی امداد ہوتی مگر نہ معلوم کہ کیوں کسی کو خیال نہ آیا۔ اس سے ایک نقص یہ بھی پیدا ہوا ہے کہ ہندوستان کی اسلامی ذریت کو اس وجہ سے کہ ان کو اپنی مذہبی زبان کا علم نہیں قرآن شریف اور دیگر علوم عربیہ سے بہت کم مش ہے۔ حضرت اقدس بھی ان باتوں کی تائید کرتے رہے اور فرمایا کہ رسالت اور نبوت اللہ تعالی می فرماید ۔ یہ ان سے ایک معصیت ہوئی۔ پھر رسالت اور نبوت کے مضمون پر حضرت اقدس فارسی میں تقریر کرتے رہے جو ذیل میں وہ تقریر درج کی جاتی ہے۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب : ۴۱ ) لكن اینجا برائے استدراک آمده است چوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیچ کس را پدر نیست ۔ پس ہماں اعتراض کہ بر دشمناں کرده شده و گفته که إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر ( الكوثر : ۴) بر آنحضرت ہم لازم می آید گویا کہ خدا تعالیٰ تصدیق معترض می کند برائے ازالہ ایں وہم فرموده است وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ یعنی پیچ ابدال و قطب و اولیاء بجز ختم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ لَكِنْ یہاں استدراک کے لئے آیا ہے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے باپ نہیں ہیں پس وہی اعتراض جو دشمنوں نے آپ پر کیا تھا اور کسی کہا تھا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ آنحضرت پر لازم آتا ہے گویا خدا تعالیٰ معترض کی تصدیق کرتا ہے اس وہم کا ازالہ کرنے کے لئے فرمایا کہ وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین یعنی اب ابدال قطب اور اولیاء میں سے کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم