ملفوظات (جلد 3) — Page 393
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۳ جلد سوم بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس مسجد کے گوشہ میں ہو بیٹھے۔ زندوں کا توسل جائز ہے ایک سوال پوچھا گیا کہ آیا دعا کےبعد یہ کلمات کہنے کہ یا الہی تو میری دعا کو بطفیل حضرت مسیح موعود قبول فرما۔ جائز ہے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ شریعت میں توسل احیاء کا جواز ثابت ہوتا ہے بظاہر اس میں شرک نہیں ہے ایک حدیث میں بھی ہے۔ فرمایا۔ قرآنی آیات سے پتہ لگتا ہے کہ اوی کا لفظ یہ چاہتا ہے کہ اوّل کوئی لفظ اوی کی حقیقت مصیبت واقع ہو۔ اس طرح انہ اوی القریة چاہتا ہے کہ ابتدا میں الْقَرْيَةَ خوفناک صورتیں ہوں ۔ اصحاب کہف کی نسبت یہی ہے فَرُوا إِلَى الْكَهْفِ (الكهف : ۱۷) اور اور جگہ وَاوَيُنَهُمَا إِلى رَبوَة (المومنون : ۵۱) ان تمام مقامات سے یہی مطلب ہے کہ قبل اس کے کہ خدا آرام دیوے مصیبت اور خوف کا نظارہ پیدا ہو جاوے اور لَوْ لَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ بھی اس کے ساتھ ملتا ہے۔ ایک لڑکے کی بیعت کے ذکر پر فرمایا کہ اوائل عمر کی بیعت اوائل عمر کے لوگوں کی بیعت میں مجھے بہت تردد ہوتا ہے جب تک انسان کی عمر چالیس برس کی نہ ہو تب تک ٹھیک انسان نہیں ہوتا۔ اوائل عمر میں ملوّن ضرور آتے ہیں میرا ارادہ نہیں ہوتا کہ ایسی حالت میں بیعت لوں مگر بدیں خیال کہ دل آزردگی ہوتی ہے بیعت کر لیتا ہوں ۔ انسان جب چالیس برس کا ہوتا ہے تو ا۔ س برس کا ہوتا ہے تو اسے موت کا نظارہ یاد آتا ہے اور جس کے قریب ابھی موت کا خوف ہی نہیں اس کا کیا اعتبار ۔ ل الحکم میں یوں ہے کہ فرمایا۔ احیاء کا توسل جائز ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کی گئی تھی ۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۵)