ملفوظات (جلد 3) — Page 389
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۹ جلد سوم لیے رکھتے ہیں کہ کافور نہ اڑے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کالی مرچ میں تیزی ہوتی ہے وہ اسے اڑنے سے بچائے رکھتی ہے۔ ۱۸ نومبر ۱۹۰۲ء بروز سه شنبه ( بوقت فجر ) بعد نماز فرمایا کہ ایک عظیم الشان رویا نماز سے کوئی ہیں یا پچیس منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہوگا۔ پھر اس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کشمیر میں کسر صلیب کے لئے یہ سامان ہوا ہے کہ کچھ پرانی انجیلیں وہاں سے نکلی ہیں میں نے تجویز کی کہ کچھ آدمی وہاں جاویں تو وہ انجیلیں لاویں تو ایک کتاب ان پر لکھی جاوے۔ یہ سن کر مولوی مبارک علی صاحب تیار ہوئے کہ میں جاتا ہوں ۔ مگر اس مقبرہ بہشتی میں میرے لئے جگہ رکھی جاوے میں نے کہا کہ خلیفہ نورالدین کو بھی ساتھ بھیج دو۔ یہ خواب ہے جو حضرت نے سنایا اور فرمایا کہ اس سے پیشتر میں نے تجویز کی تھی کہ ہماری جماعت کی میتوں کے لئے ایک الگ قبرستان یہاں سے نے تجویز کی کہ لئے ہو ۔ سوخدا نے آج اس کی تائید کر دی اور انجیل کے معنے بشارت کے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ وہاں سے کوئی بڑی بشارت ظاہر کرے اور جو شخص وہ کام کر کے لائے گا وہ قطعی بہشتی ہے۔ بوقت ظهر و عصر ) چند ایک احباب مع مولوی عبد الستار صاحب جو آج تشریف لائے تھے ان سے ملاقات ایک نشان کی ان کے تحفے تحائف لے کر جو انہوں نے حضرت اقدس کے بطور نذر پیشکش کئے تھے البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۳۴، ۳۵