ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 388

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۸ جلد سوم گی بلکہ خدا اپنے فضل سے بخشے تو بخشے ان کی تو بہ کوئی حقیقت نہ رکھے گی ۔ یہ امر خدا کے اختیار میں ہوگا جیسے فرمایا إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ (هود: ۱۰۹) اور مومنوں کے حق میں ہے عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذ ( هود : ۱۰۹ ) ۔ طاعون بھی مامور ہے اس کا طاعون مامور ہے اور لوگوں کے لئے ایک تازیانہ ہے کیا قصور جیسے اگر ایک شخص سپاہی ہو تو خواہ اسے اپنے بھائی حقیقی کے نام وارنٹ ملے تو اسے اس کو گرفتار ہی کرنا پڑے۔ کیونکہ فرض منصبی ہے میں تو خدا کا شکر کرتا ہوں کہ لوگوں کو سیدھا کرنے کا وقت اب آگیا ہے خدا کی رحمت عظیم ہے کہ اپنی طرف سے خود ہی ایک تازیانہ مقرر کر دیا کہ یہ لوگ غافل نہ رہیں ۔ اب یہ لوگ سالک نہ رہے بلکہ مجذوب ہوئے کیونکہ خود خدا نے دستگیری کی ۔ ہماری جماعت میں ہماری طرف سے نصائح کا سلسلہ تو جاری تھا مگر اس کا اثر کچھ کم ہی ہوتا تھا اب اس نے طاعون کا تازیا نہ چلا یا کیونکہ طاعون کو دیکھ کر ان لوگوں کے دل متاثر ہوں گے اور ان نصائح کو خوب موقع سمجھیں گے اب ان لوگوں کے لئے ایک عمدہ موقع اولیاء اور اصفیاء بننے کا ہے ورنہ آرام کے زمانہ میں ان نصائح کا کیا اثر ہوتا۔ بعض وقت انسان مار کھانے سے درست ہوتا ہے اور بعض وقت مار دیکھنے سے۔ زنا کی سزا کے لئے بھی خدا نے کہا ہے کہ لوگوں کو دکھا کر دی جائے۔ اسی طرح دوسروں کو تازیانہ پڑ رہا ہے اور ہماری جماعت دیکھ رہی ہے بہت سے آدمی تھے جنہوں نے ہمارے منشا اور ارادہ کو آج تک نہیں سمجھا تھا مگر اب خدا ان کو دوسروں کو تا زیا نہ لگا کر سمجھا رہا ہے طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ( النور : ۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طائفہ میں کوئی کسر ہوگی ۔ اس کی اصلاح اس طرح سے ہو جائے گی کہ وہ دوسرے کو سز املتی دیکھ کر اپنی اصلاح کرلیں گے اور اس میں کل مومنوں کو بھی نہیں کہا بلکہ ایک طائفہ کو کہا ہے۔ ایک رویا قطرات پر ہے ہیں مگر بڑے آرام اور سکون سے ۔ فرمایا۔ رات میں نے خواب میں کچھ بارش ہوتی دیکھی ہے یونہی ترشح سا ہے اور سرگرمی انسان کے اندر ہو تو ایمان رہتا ایمان کی حفاظت سرگرمی سے ہوتی ہے ہے ورنہ نہیں۔ کافور کے ساتھ کالی مرچ اس