ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 390

ملفوظات حضرت مسیح موعود فرمایا کہ ۳۹۰ ان کا آنا بھی ایک نشان ہے اور اس الہام يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کو پورا کرتا ہے۔ فرمایا ۔ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں نماز مغرب ہی پڑھی جاوے۔ ۴ ا نماز باجماعت ادا کر کے حضرت او سجد جلد سوم کشمیر میں قبر مسیح شمال و مغربی گوشہ میں بیٹھ گئے فجر کی خواب پر حضرت اقدس اور اصحاب کبار ذکر کرتے رہے۔ فرمایا کہ کشمیر میں مسیح کی قبر معلوم ہونے سے بہت قریب ہی فیصلہ ہو جاتا ہے اور سب جھگڑے طے ہو جاتے ہیں اگر فراست نہ بھی ہو تو بھی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ آسان بات کونسی ہے۔ اب آسمان پر جانے کو کون سمجھے جو باتیں قرین قیاس ہوتی ہیں وہی صحیح نکلتی ہیں آج تک خدا کے اعلام سے اس کے متعلق کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔ ( مگر اب خود ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا ) اب تخم ریزی تو ہوئی ہے امید ہے کہ کچھ اور امور بھی ظاہر ہوں گے عادت اللہ اسی طرح ہے یہ خواب بالکل سچا ہے اور اس کے ساتھ کسی طرح کی آمیزش نہیں ہے۔ مجھے اس وقت خواب میں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بڑا عظیم الشان کام ہے جیسے کسی کو لڑائی پر جانا ہوتا ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ ہماری فراست نے خطا نہیں کی۔ یہ عقدہ اللہ تعالیٰ حل کر دے تو صد ہا برسوں کا کام ایک ساعت میں ہو جاتا ہے اور عیسائیوں اور ان مولویوں کے گھروں میں ماتم پڑ جاوے۔ لے فجر والے خواب پر تذکرہ سے پہلے الحکم میں ایک اور واقعہ کا ذکر ہے جو یہ ہے۔ مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری کی علالت طبع کا ذکر آ گیا کہ ان کو اضطراب بہت ہے۔ فرمایا کیوڑہ اور گاؤ زبان بہت مفید ہے اور فرمایا کیوڑہ تو میرے پاس بہت اعلیٰ درجہ کا ہے جو سید رضوی صاحب نے حیدر آباد دکن سے بھیجا ہے مگر گاؤ زبان نہیں۔ کیوڑہ میں لائے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضور اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد کیوڑہ کی ایک بوتل لے آئے ۔ یہ ہمدردی یہ ہمت جس میں سستی اور غفلت نام کو نہیں ۔ کسی عام انسان کا خاصہ نہیں ہوسکتی۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۴)