ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 387

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۷ جلد سوم اس کے خلق اسباب میں عجب مزا آتا ہے۔ قتل کے مقدمہ پر نظر ڈالو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے سب میں پھوٹ ڈال دی۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ اگر حاکم کے سامنے بھی آدمی جاوے تو اسے ہرگز نہ کو سے کیونکہ اگر خدا کو یہ راضی کرتا ہے تو وہ خود اس کے دل کو اس کی طرف پھیر دے گا سب کچھ اسی کے پنجہ میں ہے جسے جس طرف چاہے پھیر دے اس رنگ میں ایک مزا وجودی مذہب کا آجاتا ہے مگر ان کا قدم ذرا آگے پھیلا ہوا ہے لیکن اگر یہاں تک قدم نہ پڑے تو پھر توحید کا بھی مزا نہیں آتا ۔ دراصل لوگوں کو شبہات پڑ سب سے زیادہ ضروری تھے خدا کی ہستی پر یقین ہے گئے ہیں اس لئے وہ گناہ ! سے پر ہیز نہیں کرتے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ غفلت کا حصہ رہ جاتا ہے ۔اسی طرح خدا اب چاہتا ہے کہ یہ لوگ سمجھ لیویں جس طرح نوح کے زمانہ میں اس کے بیٹے نے کہا تھا کہ میں پہاڑ کی پناہ میں آگیا ہوں ۔ اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ٹیکہ کی پناہ میں طاعون سے آجاویں گے ۔سب سے زیادہ ضروری ھے خدا کی ہستی پر یقین ہے بغیر اس یقین کے اعمال میں برکات ہرگز پیدا نہیں ہوتیں ہیں ۔ ۔ خدا تعالیٰ نے کہا کہ چلو ذرا ہم ہی چلے چلیں ۔ اگر لوگ آج ہی توحید پر قائم ہو جاویں تو آج ہی یہ بلا جاتی رہتی ہے۔ خدا انسان کے اعمال کو دیکھتا ہے کہ توحید پر وہ قائم ہیں کہ نہیں۔ بہت سے عمل تو گل کے برخلاف، توحید کے برخلاف ہوتے ہیں خواہ وہ کسی طرح سے لا اله الا اللہ کہے مگر وہ اس میں جھوٹا ہوتا ہے اور یہی فسق ہے آج کل جس قدر اسباب پر بھروسہ ہے اس کی نظیر زمانہ سابق میں نہیں ملتی۔ اگر چہ ان وقتوں میں فسق و فجور ہوتا تھا مگر خدا کا خوف بھی دلوں میں ہوتا تھا ایک وقت آتا ہے کہ لوگ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدُوَانا کہیں گے مگر اس وقت وہ سب ناس ہی رہ جائیں گے جیسے رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ۳) مگر ایسے وقت پر ان لوگوں کو ایمان چنداں فائدہ نہیں دیتا۔ خدا فرماتا ہے قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيْمَانُهُمْ (السجدۃ:۳۰) اس سے طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تو بہ قبول نہ ہو