ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 386

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۶ جلد سوم یہ مخالف اب اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں ۔ ہاں بعض یہ کہیں گے کہ اگر ہم چاہیں تو لکھ سکتے ہیں اس پر نواب خان صاحب نے ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر سنایا کہ دہلی میں ایک مولوی نے اعجاز لمسیح کو دیکھ کر یہی کہا تھا کہ اگر چاہیں تو ہم لکھ سکتے ہیں مگر کون وقت ضائع کرے حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ وہی مثال ہے کہ ایک شخص نے مشتہر کیا کہ میرے پاس ایک بکری ہے جو شیر کو مار لیتی ہے بشر طیکہ وہ چاہے۔ اسی طرح یہ لوگ ارادہ نہیں کرتے یہی ان کا حیلہ ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اعجاز احمدی کا اردو حصہ بھی ہمارے تمام رسالوں کا نچوڑ ہے۔ مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ حضور رنگ دوسرا ہے ۔ پھر فرمایا کہ ابھی کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت کے کون کون پوشیدہ لوگ ان کے درمیان ہیں وقت آوے گا تو سب آجاویں گے۔ اس کی مثال ایک شرابی کی مثال ہے کہ وہ جب تک بیہوش ہوتا ہے تو سب کچھ کہتا رہتا ہے پھر جب ہوش آئی تو سنبھل جاتا ہے اسی طرح ان لوگوں کو بھی حسد اور تعصب کی شراب کی بیہوشی ہے۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ گو محمد حسین صاحب بٹالوی آخر کار مولوی محمد حسین بٹالوی کا انجام ہماری جماعت میں داخل ہوں مگران پنجابی تصانیف اور دیگر تحریروں میں جو کچھ ان کی گت بن چکی ہے وہ صفحہ روزگار پر یادگار رہے گی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ تمام ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاوے گا خدا کی شان ہے کہ جو ارادے (ذلت پہنچانے کے ) اس کے ہمارے لئے تھے وہ تمام اس پر الٹے پڑے خود اس کی اپنی جماعت میں اس کو عزت نہ ہوئی ۔ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں خدا کی قدرتیں عجیب ہیں جس کو چاہے عنایت کرے یہ تمام اس کی لہریں ہیں انسان کی غلطی ہے کہ ادھر ادھر پیر مارتا ہے جس قدر وہ لذات چاہتا ہے خدا تعالیٰ قادر ہے کہ حلال ذریعہ سے پہنچاوے۔ کوئی دوست کسی کی ایسی پاسداری نہیں کرتا جیسے وہ کرتا ہے۔