ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 382

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۲ جلد سوم ہیں یہ کافی نہیں ۔ سب سے پہلا معجزہ تو یہ ہے کہ انسان پاک دل ہو بھلا پلید دل کیا معجزہ دکھا سکتا ہے جب تک خدا سے ڈرنے والا دل نہ ہو تو کیا ہے؟ ضروری ہے کہ متقی ہو اور اس میں دیانت ہوا گر یہ نہیں تو پھر کیا ہے؟ تماشے دکھانے والے کیا کچھ نہیں کرتے جالندھر میں ایک شخص نے بعض شعبدے دکھائے اور اس نے کہا میں مولویوں سے ان کی بابت کرامت کا فتویٰ لے سکتا ہوں مگر وہ جانتا تھا کہ ان کی اصلیت کیا ہے؟ وہ اس سلسلہ میں داخل ہو گیا اور اس نے توبہ کی ۔ جن ملکوں کے قصے بیان کئے جاتے ہیں وہاں اگر معجزات دکھانے والے ہوتے تو یہ فسق و فجور کے دریا وہاں نہ ہوتے ۔ خدا تعالیٰ کے نشانات دل پر ایک پاک اثر ڈالتے ہیں اور اس کی ہستی کا یقین دلاتے ہیں مگر یہ شعبدے انسان کو گمراہ کرتے ہیں ان کا خدا شناسی اور معرفت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ یہ کوئی پاک تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اس لئے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتے ۔ اے ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء بروز شنبه ( بوقت ظهر ) تائیدات الهیه اس وقت حضرت اقدس ان تائیدات الہی کا ذکر کرتے رہے جو کہ اب الہیہ کا ذکر ان ایام میں حضور کی فتح نصرت اور اقبال کے شامل حال ہوتی جاتی ہیں اور کس طرح سے ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ تمام دشمن گرفتار ہوتے جاتے ہیں ۔ حضرت اقدس پیدا کہ حسب معمول بعد ادائے نماز مغرب شدن نشین پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اور بعض مریضوں کے حالات اور ان میں فوری تیز جلابوں سے جو عمدہ نتائج پیدا ہوئے تھے ان کا ذکر حکیم نور الدین صاحب کرتے رہے حضرت اقدس طاعون کا علاج نے اس کی تائید میں فرمایا کہ جب بمبئی میں طاعون کثرت سے پھیلی تو وہاں سے زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجینئر نے مجھے لکھا تھا کہ یہ ایک بار ہا تجربہ شدہ اور مفید علاج اس کا دیکھا گیا ہے کہ طاعون کے آثار نمودار الحکم جلد ۶ نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۷