ملفوظات (جلد 3) — Page 381
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۱ جلد سوم بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتدا سے چلا آتا ہے پیغمبر خدا آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہؓ نے بھی حصہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی اور اس سے بڑھ کر دلیل یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں برکات نہیں ہیں اور اسلام کے سوا اور کسی مذہب میں رکھا ہوا کیا ہے؟ ہندوؤں کو دیکھو بُت پرست ہیں عیسائیوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا رکھا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ہم بہت پرست نہیں ہیں تو جب ہم اس کی تفتیش کریں گے تو ثابت کر دیں گے۔ آریہ لوگ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں خود کلام خدا کا متبع نہ ہونا اور یہ دعویٰ کرنا کہ میں خدا سے مل جاؤں گا یہ بھی گمراہی ہے جیسے حدیث میں ہے کہ اے لوگو تم سب اندھے ہو مگر جسے میں آنکھیں دوں۔ جو شخص دعوی کرتا۔ ہے کہ میں خدا کے کلام کے سوانجات پالوں گا وہ بھی مشرک ہے نجات کی کنجی تو خدا کے ہاتھ میں ہے وہی جس کے لئے چاہے اس کے دروازے کھول دے۔ خدا بار بار یہی فرماتا ہے کہ رسول کی پیروی کرو اگر ایک باغ ہو اور اس میں لاکھوں پھل ہوں مگر جب تک باغبان اجازت نہ دے تو کوئی اس میں سے ایک پھل بھی نہیں کھا سکتا اسی طرح بازاروں میں کئی قسم کی اشیاء ہوتی ہیں اور ہزاروں ہوتی ہیں مگر مالک کی اجازت ہو تو کوئی لیوے۔ تعالیٰ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کا ایک یہی طریق ہے اور یہ آدم سے اسی طرح چلا آتا ہے اس میں بحث کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر ایک نور اور معرفت کی نظیر اور جگہ مل ہی نہیں سکتی۔ حقیقی کرامت انسان کا سب سے پہلا جزہ یہ ہے کہ خدا تعالی اسے تقوی بخشے جودل پلید ہوتے ہیں ان کا بیان ہی کرنا بے فائدہ ہے اگر کوئی ہمارے پاس آکر ایک کاغذ کا کبوتر بنا کر دکھا دے تو کیا اسے ہم کرامت سمجھ لیں گے؟ بات یہی ہے کہ انسان کی زندگی کھادے پاک ہوفراست ہو اور تقویٰ ہو۔ کے دوسرا سوال یہ تھا کہ معجزہ کی قسم کے بعض امور اور لوگ بھی دکھاتے ہیں ۔ ۔ معجزہ کی حقیقت دوسرا سوا فرمایا۔ میں قصوں کو نہیں سنتا یہ جو فرانس یا کسی اور جگہ کے قصے سنائے جاتے البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۱