ملفوظات (جلد 3) — Page 31
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱ جلد سوم کس طرح پر ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو رکھا ہوا ہے وَلَا الضَّالِّينَ پر سورۃ فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز ہے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورۃ فاتحہ کے انجام سے ہے۔ ادھر مسیح اور آدم کی مماثلت ٹھہرائی اور مجھے مسیح موعود بنایا تو ساتھ ہی آدم بھی میرا نام رکھا۔ یہ باتیں معمولی باتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک علمی سلسلہ ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس کی بنیاد رکھی ہے۔ شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنے جفت کے ہیں ۔ اس لیے شفیع شفیع کون ہو سکتا ہے وہ ہوسکتا ہے جو مقامات کا مظہر اتم ہویعنی مظہر کل لاہوت اور کامل ناسوت کا ہو ۔ لاہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طرف صعود ہو وہ خدا سے حاصل کرے۔ اور ناسوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا جا سے حاصل کرے وہ مخلوق کو پہنچاوے اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم : ۹، ۱۰) ۔ ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدوں کامل حصہ مقام لاہوت کا کسی نبی میں نہیں آیا، اور ناسوتی حصہ چاہتا ہے بشری لوازم کو ساتھ رکھے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں یہ ساری باتیں پوری پائی جاتی ہیں۔ آپ نے شادیاں بھی کیں ۔ بچے بھی ہوئے ۔ دوستوں کا زمرہ بھی تھا۔ فتوحات کر کے اختیاری قوتوں کے ہوتے ہوئے انتقام چھوڑ کر رحم کر کے بھی دکھایا۔ جب تک انسان کے پیرا یہ پورے نہ ہوں وہ پوری ہمدردی نہیں کر سکتا۔ اس حصہ اخلاق فاضلہ میں وہ نامکمل رہے گا۔ مثلاً جس نے شادی ہی نہیں کی وہ بیوی اور بچوں کے حقوق کی کیا قدر کر سکتا ہے اور ان پر اپنی شفقت اور ہمدردی کا کیا نمونہ دکھا سکتا ہے۔ رہبانیت ہمدردی کو دور کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔ غرض کامل شفیع وہی ہو سکتا ہے جس میں یہ دونوں حصے کامل طور پر