ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 30

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ جلد سوم مخلوق کے شر سے اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو رَبُّ الْفَلَقِ ہے یعنی صبح کا مالک ہے یا روشنی ظاہر کرنا اسی کے قبضہ واقتدار میں ہے۔ رَبُّ الْفَلَقِ کا لفظ بتاتا ہے کہ اس وقت عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کی تکفیر اور توہین کے فتنہ کی اندھیری رات احاطہ کرلے گی اور پھر کھول کر کہا کہ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اور میں اس اندھیری رات کے شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور مسیح موعود کے انکار کے فتنہ کی شب تار ہے پناہ مانگتا ہوں ۔ پھر لکھا وَ مِنْ شَرِّ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ اور میں ان زنانہ سیرت لوگوں کی شرارت سے پناہ مانگتا ہوں جو گنڈوں پر پھونکیں مارتے ہیں۔ گرہوں سے مراد وہ معضلات اور مشکلات شریعت محمد یہ ہیں جن پر جاہل مخالف اعتراض یہ کرتے ہیں اور ان کو ایک پیچیدہ صورت میں پیش کر کے لوگوں کو دھوکا میں ڈالتے ہیں اور یہ دو قسم کے لوگ ہیں ایک تو پادری اور ان کے دوسرے پس خوردہ کھانے والے اور دوسرے وہ نا واقف اور ضدی ملاں ہیں جو اپنی غلطی کو تو چھوڑتے نہیں اور اپنی نفسانی پھونکوں سے اس صاف دین میں اور بھی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں اور زنانہ خصلت رکھتے ہیں کہ خدا کے مامور ومرسل کے سامنے آتے نہیں ۔ پس ان لوگوں کی شرارتوں سے پناہ مانگتے ہیں اور ایسا ہی ان حاسدوں کے حسد سے پناہ مانگتے ہیں اور اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسد کرنے لگیں ۔ اور پھر آخر سورۃ میں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم فرمائی ہے جیسے سورۃ فاتحہ کو الضَّالِّينَ پر ختم کیا تھا ویسے ہی آخری سورۃ میں خناس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور الضَّالِّينَ کا تعلق معلوم ہو۔ اور آدم کے وقت میں بھی خناس جس کو عبرانی زبان میں نحاش کہتے ہیں جنگ کے لیے آیا تھا اس وقت بھی مسیح موعود کے زمانہ میں جو آدم کا مثیل بھی ہے ضروری تھا کہ وہی نحاش بھی کے زمانہ ؟ ایک دوسرے لباس میں آتا اور اسی لیے عیسائیوں اور مسلمانوں نے باتفاق یہ بات تسلیم کی ہے کہ آخری زمانہ میں آدم اور شیطان کی ایک عظیم الشان لڑائی ہو گی جس میں شیطان ہلاک کیا جاوے گا۔ اب ان تمام امور کود یکھ کر ایک خدا ترس آدمی ڈر جاتا ہے کیا یہ میرے اپنے بنائے ہوئے امور ہیں جو خدا نے جمع کر دیتے ہیں۔