ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 32

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲ جلد سوم پائے جائیں ۔ چونکہ یہ ایک ضروری امر تھا کہ شفیع ان دونوں مقامات کا مظہر ہو اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے ہی اس سلسلہ کا ظل قائم رکھا ، یعنی آدم علیہ السلام کو جب پیدا کیا تو لا ہوتی حصہ تو اس میں یوں رکھ دیا جب کہا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ( الحجر : ۳۰) اور ناسوتی حصہ یوں رکھا کہ حوا کو اس سے پیدا کیا۔ یعنی جب روح پھونکی تو ایک جوڑ آدم کا خدا تعالیٰ سے قائم ہوا۔ اور جب حوا نکالی تو دوسرا مخلوق کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ناسوتی ہو گیا۔ پس جب تک یہ دونو حصے کامل طور پر کامل انسان میں نہ پائے جاویں وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔ جیسے آدم کی پسلی سے جو انکلی اسی طرح پر کامل انسان کی پسلی سے مخلوق نکلتی ہے۔ ایک شخص نے دریافت کیا کہ تصویر کی وجہ سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی ؟ تصویر اور نماز جواب میں حضرت اقدس میں موعود علیہ الصلوۃ والسلم نے فرمایا۔ مسیح کفار کے تتبع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں بلکہ اُس کی حرمت اضافی ہے، اگر نفس تصویر مفسد نماز ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا ہوتو پیسے نماز کے مفسد نہیں ہو سکتا ؟ اس کا جواب اگر یہ دو کہ روپیہ پیسہ کا رکھنا اضطراری ہے تو میں کہوں گا کہ کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آجاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہوگا اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں؟ اگر یوں ہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے اور اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون : ۴) لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے اس لیے اس سے بچنا چاہیے لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ مثلاً ہم نے ایک موقع پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔ اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ