ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 380

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۰ جلد سوم حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ بہت عمدہ کام ہے اور اس زمانے کا یہی جہاد ہے جو لوگ پنجابی سمجھتے ہیں آپ ان کے لئے بہت مفید کام کرتے ہیں ۔ سید سرور شاہ صاحب نے لالہ بڑہایا کی طرف سے نجات خدا کے فضل سے ہوتی ہے عرض کی کہ رات کو انہوں نے ایک سوال کیا کہ اسلام کے سوا غیر مذاہب کے لوگ جو نیکی کرتے ہیں کیا ان کو نجات ہے کہ نہیں؟ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے۔ اس فضل کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے جو اپنا قانون ٹھہرایا ہوا ہے وہ کبھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے کہ قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) اور وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يقْبَلَ مِنْهُ (ال عمران : ۸۶)۔ اگر اس پر دلیل پوچھو تو یہ ہے کہ نجات ایسی شے نہیں ہے کہ اس کے برکات اور ثمرات کا پتہ انسان کو صرف مرنے کے بعد ہی ملے بلکہ نجات تو وہ امر ہے کہ جس کے آثار اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں کہ نجات یافتہ آدمی کو ایک بہشتی زندگی اسی دنیا میں مل جاتی ہے دوسرے مذاہب کے پابند بکلی اس سے محروم ہیں اگر کوئی کہے کہ اہلِ اسلام کی بھی یہی حالت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اسی لئے اس سے بے نصیب ہیں کہ کتاب اللہ کی پابندی نہیں کرتے۔ اگر ایک شخص کے پاس دوا ہو اور وہ اسے استعمال نہ کرے اور لا پروائی سے نہ کھاوے تو وہ بہر حال اس کے فوائد سے محروم رہے گا یہی حال مسلمانوں کا ہے ان کے پاس قرآن جیسی پاک کتاب موجود ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں ہیں مگر جو لوگ خدا کے کلام سے اعراض کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ انوار و برکات سے محروم رہتے ہیں ۔ پھر اعراض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک صوری اور معنوی یعنی ایک تو یہ ہے کہ (ظاہری اعمال میں اعراض ہو اور ) دوسرے یہ کہ اعتقاد میں ہو اور انسان کو انوار اور برکات سے حصہ نہیں مل سکتا جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ١١٩ ) ۔