ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 378

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۸ جلد سوم فرمایا۔ جسمانی طور پر جس قدر ترقیات آج تک ہوئی ہیں کیا وہ پہلے زمانوں میں تھیں؟ اسی طرح روحانی ترقیات کا سلسلہ ہے کہ وہ ہوتے ہوتے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہوا۔ خاتم النبیین کے یہی معنے ہیں جب ان ( وہابیوں ) کی یہ حالت ہے تو پھر آنحضرت سے کون سی سچی محبت کر سکتے ہیں اور کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ فرمایا کہ میرا دل ان لوگوں سے کبھی راضی نہیں ہوا اور مجھے یہ خواہش کبھی نہیں ہوتی کہ مجھے یہ ۔ وہابی کہا جاوے اور میرا نام کسی کتاب میں وہابی نہ نکلے گا۔ میں ان کی مجلسوں میں بیٹھتا رہا ہوں ۔ ہمیشہ لفاظی کی بُو آتی رہی ہے۔ یہی معلوم ہوا کہ ان میں نرا چھلکا ہے مغز بالکل نہیں ہے۔ محمد حسین نے خود حدیث کی نسبت اپنی اشاعۃ السنہ میں یہ بات لکھی ہے کہ ایک صاحب الہام یا اہل کشف صحیح حدیث کو ضعیف یا ضعیف کو صحیح قرار دے سکتا ہے کیونکہ وہ کشفی حالت میں آنحضرت سے اس کی تصحیح کر الیتا ہے مگر تا ہم میں نے یہ التزام رکھا ہے کہ میں اپنے کشوف اور الہامات پر تحمل نہیں کرتا جب تک قرآن اور سنت اور صحیح حدیث اس کے ساتھ نہ ہو۔ محمد حسین سے پوچھا جاوے کہ جب عبداللہ غزنوی احادیث میں اس طرح دخل دے سکتے تھے تو پھر حکم نے کیا گناہ کیا ہے کہ اسے ہر ایک رطب و یابس ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شحنہ ہند نے جو مخالفت محمد حسین کی کی ہے اس پر فرمایا کہ باقی رہنے والی دوستی جو لوگ اپنی نفسانی اغراض کے پرستار ہوتے ہیں ان میں دوستی نہیں ہوتی اگر ہو تو جلد جاتی رہتی ہے۔ خدا کے واسطے دوستی ہو تو وہ باقی رہتی ہے وہ ذات پاک قدوس ہے وہی دلوں میں پاکیزگی بھرتا ہے اور سینوں کو کدورتوں سے صاف کرتا ہے۔ شیخ فضل حق صاحب نو مسلم پشاور سے آئے ہوئے تھے تقویٰ اور استقامت اختیار کرو ان کی موجودہ حالت پرفرمایا کہ رض اوائل میں جو سچا مسلمان ہوتا ہے اسے صبر کرنا پڑتا ہے صحابہ پر بھی ایسے زمانے آئے ہیں کہ صبر پتے کھا کھا کر گزارہ کئے بعض وقت ان کو ٹکڑا بھی میسر نہیں آتا تھا کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی