ملفوظات (جلد 3) — Page 377
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۷ جلد سوم ۱۳ نومبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبه ( بوقت مغرب ) نئی روشنی کے تعلیم یافتہ جو کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے احکام کو نو تعلیم یافتہ ملحدین جواب دے بیٹے ہیں ان کے گر پر فرمایا کہ ۔ وہ خدا جس میں ساری راحتیں مخفی ہیں وہ ان سے بالکل دور ہو گیا ہے جیسے کروڑہا کوس ہے اس صورت میں ان کا پھر خدا سے کیا تعلق ؟ اور جن کو یہ مہذب کہتے ہیں ان کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔ (گویا خدائی کا منصب و قالب سب ان کو دے دیا ہے ) حُبّ دنیا اور حب جاہ نے ان کو اندھا کر دیا ہے۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ اپی فینی میں ایک مضمون ہے ایک علی گڑھ کے طالب علم کی طرف سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی گناہ سے خالی نہ تھے اگر چہ اور انبیاء سے بزرگ تر ہیں جن کے گناہ ان سے زیادہ تھے۔ حضرت نے فرمایا کہ اصل میں یہ لوگ مذہب سے خارج ہیں خدا کا خوف مطلق نہیں صرف کنبہ کا ہے۔ حضرت اقدس نے ان وہابیوں کے اخلاق اور ادب رسول پر ایک ذکر وہابیوں کی ظاہر پرستی اپنا سنایا کہ ایک دفعہ جب آپ امرتسر میں تھے تو غزنوی پ تھے تو گروہ کے چند مولویوں نے آپ کو چائے دی چونکہ حضرت اقدس کے داہنے ہاتھ میں بچپن سے ضرب آئی ہوئی ہے اور ہڈی کو صدمہ پہنچا ہوا ہے آپ نے بائیں ہاتھ سے پیالی لی تو اس پر غزنوی صاحبان نے فوراً بلا وجہ دریافت کئے کے کہنا شروع کیا کہ یہ خلاف سنت ہے آپ نے ان کو سمجھایا کہ آداب اور روحانیت بھی سنت ہیں پھر ان کو اصل وجہ بتلا دی گئی اس کے بعد ان لوگوں نے آپ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی تصنیفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کی ہے اس قدر نہ چاہیے تھی ہم تو ان کو اسی قدر مانتے ہیں ۔ جس قدر حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت کا مرتبہ یونس بن متی سے بھی زیادہ نہیں ہے۔