ملفوظات (جلد 3) — Page 376
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۶ جلد سوم اثْقَالَهَا ( الزلزال : (۳) اسی کی طرف اشارہ ہے زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا چاہتا ہے۔ حکیم نور الدین صاحب نے عرض کی کہ لوہا آج تک اس کثرت سے زمین سے انْزَلْنَا الْحَدِيدَ نکلا ہے کہ اگر ایک جگہ جمع کیا جاوے تو ایک اور ہمالہ پہاڑ بنتا ہے۔ لوہے کی کانوں کی آج تک تہ نہیں ملی کہ کہاں تک نیچے نیچے نکلتا آتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے بھی سونا اور چاندی کو چھوڑ کر اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ (الحدید : ۲۶) ہی کہا ہے ( یعنی یہی بنی نوع انسان کے لئے زیادہ نفع رساں ہے ) پھر کلام کے معجزہ پر فرمایا کہ کلام کے معجزہ کی اہمیت صفحه روزگار میں یاد رکھنے کے لئے جیسے یہ نشان ہوتا ہے اور کوئی نہیں یہ بھی ایک ختم نبوت کا نشان تھا اب بھی قرآن شریف کو جو کوئی دیکھے گا تو اسے وہ معجزہ ہی نظر آوے گا اگر موسیٰ کا سونٹا بھی اس شان کا ہوتا تو چاہیے تھا کہ وہ بھی کسی صندوق میں آج تک محفوظ چلا آتا اور یہودی لوگ اس کی زیارت کرواتے کہ یہ موسیٰ کا سونٹا ہے جسے اس نے سانپ بنایا تھا یہی حال مسیح کے مریضوں کی صحت کا ہے اب تو یہ عیسائی لوگ پچھتاتے ہوں گے کہ کاش عیسی کوئی کتاب ہی بناک بنا کر چھوڑ جاتے مگر یہ خاصہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور کسی نبی کا نہیں ۔ پھر لالہ بڑہایا جو مدر اس سے آئے ہوئے ہیں ان کی نسبت حضرت اقدس اور حکیم نیت پر ثواب صاحب اور مولوی صاحب یہ تذکرہ کرتے رہے کہ اس شخص کے دل میں کیا شوق ہے کہ اتنی دور دراز مسافت طے کر کے زیارت کے لئے آیا ہے حالانکہ نہ ہماری باتیں سمجھ سکتا ہے نہ لے اللہ تعالیٰ ہر ایک کی نیت پر ثواب دے دیتا ہے ۔ انگریزی جانتا ہے حضرت نے فرمایا کہ البدر جلدا نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۰