ملفوظات (جلد 3) — Page 374
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۴ جلد سوم اس کے بعد ایک ہندو صاحب تشریف لائے جو کہ علاقہ کرشن اور رام چندر کی پرستش مدراس کے ایک مقام رائے ڈرگ ضلع بلباری سے آئے ڈروگ سے تھے ۔۔۔۔۔ حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ آپ کے شہر میں کرشن اور رامچندر اور پتھر کے بتوں وغیرہ کی بھی پرستش ہوتی ہے؟ لالہ صاحب نے جواب دیا کہ ہاں لوگ کرتے ہیں ، میں نہیں کرتا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ مدراس سے ہندو ہندو کا آنا بھی نشان ہے اب ان کا اس قدر دور دراز مقام سے آنا بھی يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کا مصداق ہے اگر ایسے نشانوں کو ہم جمع کریں تو دس ہزار سے بھی زیادہ نکلتے ہیں اور گواہ بھی محمد حسین کافی ہے۔ فرمایا که آتھم کا رجوع یہ بات بھی یاد رکھو کہ میں نے اس وقت مباحث میں سناد یا تھا کہ اس مباحثہ وو اور پیشگوئی کی بنیاد یہ ہے کہ آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال رکھا تو اسی وقت آتھم نے تو بہ توبہ کر کے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا " مرزا صاحب مجھے ناحق مارتے ہیں میں نے تو دجال نہیں کہا؟ ( مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا مجھے یہ الفاظ خوب یاد ہیں ) کیا یہ اس کا یہ عمل رجوع تھا یا نہیں ؟ لنڈن میں جھوٹے مسیح پکٹ کے بعد سچے مسیح کا قدم ہوگا کچھ عرصہ ہوا کہ مفتی محمد صادق صاحب نے ایک خط مسٹر پکٹ مدعی مسیح کولندن میں لکھ کر مزید حالات اس کے دعوی کے دریافت کئے تھے اس کے جواب میں پکٹ کے سکرٹری نے دواشتہار اور ایک خط روانہ کیا تھا وہ حضرت کو سنائے ۔۔۔۔۔ پکٹ کے اشتہار کا عنوان انگریزی لفظ میں تھا جس کے معنے ہیں کشتی نوح ۔ فرمایا ۔ اب ہماری سچی کشتی نوح جھوٹی پر غالب آجائے گی ۔ اور فرمایا کہ یورپ والے کہا کرتے تھے کہ جھوٹے مسیح آنے والے ہیں سو اول لنڈن میں