ملفوظات (جلد 3) — Page 373
ملفوظات حضرت مسیح موعود اسے کچھ جواب نہ بن آیا۔ ۳۷۳ جلد سوم مغرب کی نماز سے پیشتر جناب میر ناصر نواب صاحب نے حافظ محمد یوسف کی نیش زنی امرتسر سے آکر بیان کیا کہ حافظ محمد یوسف صاحب ملے تھے اور ان سے باتیں ہوئیں تھیں آخر نیش زنی پر آگئے میں نے جواب دیئے حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر ہم کا ذب ہیں تو ہم ادنیٰ سے ادنی جو آدمی ہے اس سے بھی بدتر ہیں۔ کاذب کی حقیقت ہی کیا ہوتی ہے۔ پھر نماز کے بعد مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے نے بیان کیا کہ ایک شخص نے فارقلیط اور احمد فارقلیط پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کے معنے تو حق اور باطل کے تمیز کرنے والے کے میگزین میں کئے گئے ہیں تو پھر یہ معنی لفظ احمد پر کیسے چسپاں ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فارقلیط سے مراد احمد ہے لفظ احمد کی پیشگوئی کا ذکر کتب سابقہ میں کہاں ہے؟ خدا کے برگزیدہ نے فرمایا کہ ہمارے ذمہ ضروری نہیں ہے کہ موجودہ کتب تو ریت وغیرہ سے وہ لفظ نکال کر دکھلاویں جب قرآن کریم نے ان کو مبدل و محرف قرار دیا ہے تو ہم کہاں سے نکالیں؟ جب فارقلیط ہی محرف ہے تو ممکن ہے کہ کوئی اور بھی لفظ ہو جس کے معنی احمد کے ہوں۔ لسان العرب میں لکھا ہے کہ فارقلیط لفظ فارق اور لیط کا مرکب ہے فارق بمعنی فرق کرنے والا اور لیط بمعنے شیطان۔ یعنی شیطان کو الگ کر دینے والا دوسری یہ بات ہے کہ آنحضرت کا نام فارقلیط بھی ہے کیونکہ وہ صاحب فرقان ہے اور فرقان کے معنے فرق کرنے والے کے ہیں اور اعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ میں لفظ شیطان ہے جو لیط کا معنے ہے اس طرح آپ کا نام فارقلیط بھی ہو گیا اور احمد کے معنے بہت تعریف کرنے والے کے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کون ہو گا جو توحید کے ذریعہ سے ہر ایک قسم کی شیطنت کو دور کرے۔ فارقلیط بننے کے واسطے احمد ہونا ضروری ہے احمد وہ ہے جو دنیا میں سے شیطان کا حصہ نکال کر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو قائم کرنے و ت اور جلال کو قائم کرنے والا ہو فارقلیط کا منشا دوسرے الفاظ میں احمد ہے۔