ملفوظات (جلد 3) — Page 372
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۲ جلد سوم ہیں ہماری طرف سے کوشش ہی کیا ہوئی ہے آسمان پر ایک جوش ہے وہی کشاں کشاں لوگوں کو لا رہا ہے۔ پھر اس کے بعد نظم ایک شخص سناتے رہے ایک مقام پر عیسائیوں کے ذکر عیسائیوں کا مذہب پر حضرت نے فرمایا کہ یہ لوگ اتنا فلسفہ اور ہیئت پڑھ کر ڈوبے ہوئے ہیں چوڑھوں کا بھی کچھ مذہب ہوتا ہے کہ کچھ بات پیش کرتے ہیں مگر یہ تو بالکل ہی ڈوبے ہوئے ہیں۔ پھر ایک صاحب نے ایک خواب سنایا کہ ایک شخص خواب میں گالیاں دینے کی تعبیر اسے گالیاں دے رہا ہے۔ حضرت نے تعبیر دی کہ جو شخص خواب میں گالی دینے والا ہوتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جس کو گالی دی جاتی ہے وہ غالب ہوتا ہے۔ ۱۱ نومبر ۱۹۰۲ء بروز سه شنبه ظہر کے وقت حضرت تشریف لائے۔ دینی کاموں کے لئے دن رات ایک کر دو احباب کوفرمایا کہ یہ وقت بھی ایک قسم کے جہاد کا ہے میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو چاہیے کہ اس میں سے حصہ لیوے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن اور رات کو ایک کرے۔ کلام کی فصاحت اور بلاغت پر فرمایا کہ کلام کا نشان دائمی ہوتا ہے دوسری قسم کے جس قدر نشانات ہوتے ہیں وہ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر اس طرح کا نشان ہمیشہ قائم رہتا ہے بھلا اب موسی کے سانپ کو کوئی دکھا سکتا ہے؟ اور کلام کا معجزہ اور نشان ایسا ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ فلاں شخص ( مرد خدا) نے یہ کلام بطور نشان کے پیش کیا اور مخالف کچھ نظیر نہ لا سکے اور البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۸