ملفوظات (جلد 3) — Page 371
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۱ جلد سوم کتاب تو عمدہ ہے اگر آخر میں مکان کے چندہ کا ذکر نہ ہوتا۔ میں نے اسے جواب دیا کہ کیا تم سے بھی ایک پیسہ ناطب کیا ہے جو ان سے تعلق مرزا صاحب نے مانگا ہے یا تم نے دیا ہے؟ نے دیا ہے؟ مرزا صاحب نے تو ان لوگوں کو مخاطب کیا اہنیت کا رکھتے ہیں ۔ کیا اگر ایک باپ اپنے بیٹوں سے دو ہزار اس لئے طلب کرے کہ اسے ایک مکان بنانا ہے تو کیا یہ فعل اس کا قابل اعتراض ہوگا ؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ مخالفین کے اشتہارات ترقی میں مانع نہیں یہ سب باتیں تو ہیں لیکن اندر ہی اندر ترقی ہو رہی ہے خدا کا فضل ہے اسی طرح کے اشتہارات جو مخالفین کی طرف سے شائع ہوتے ہیں یہ خدا کی کارروائی میں مصر معلوم نہیں ہوتے کیونکہ جب تک تپیش نہ ہو بارش نہیں ہوتی ۔ ہم سب پر بدظنی نہیں کرتے انہیں میں سے لوگ نکلنے شروع ہو جاتے ہیں کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم اول مخالف تھے گالیاں دیتے تھے مگر اب ایک راہ چلتے سے ایک اشتہار دیکھ کر بیعت کرتے ہیں اس سے پیشتر بھی یہ کارروائیاں چپ چاپ نہیں ہوئیں۔ مکہ میں کیا ہوتا رہا خدا تعالیٰ تماشا دیکھتا ہے کیا کفار امن سے رہتے تھے وہ بھی ہمیشہ ہر وقت لڑائیوں اور فسادوں میں رہتے تھے ابو جہل ہی کو دیکھو کہ بدر کی جنگ میں مباہلہ بھی کر لیا اللهُمَّ مَنْ كَانَ مِنَّا أَقْطَعَ لِلرَّحْمِ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَأَحِنُهُ الْيَوْمَ یعنی ہم دونوں میں سے جوز ، دونوں میں سے جو زیادہ قطع رحم کرتا ہے اور زمین میں فساد ڈالتا ہے اس کو آج ہی ہلاک کر پھر اسی دن وہ قتل ہو گیا اس کو تو یہی خیال ہو گا کہ اس ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے فساد بر پا کر دیا ہے بھائی بھائی سے جدا کر دیا ہے اور ہر روز کا فتنہ برپا ہے لوگ آرام میں اپنی زندگی بسر کر رہے تھے ناحق ان کو چھیڑ دیا ہے ان کا اسی بنا پر یہ خیال تھا کہ یہ ضرور مفسد ہے۔ ایک فتنہ لعنت ہوتا ہے اور ایک فتنہ رحمت ہوتا ہے کوئی نبی نہیں آیا جس نے فتنہ نہیں ڈالا ہمیشہ نوبت جدائی اور فساد کی پہنچتی رہی۔ پھر آخرا نہی میں سے جو نیک تھے اللہ تعالیٰ ان کو لے آتا رہا۔ دنیا میں ہمارے اسی سلسلہ کے متعلق گھر گھر شور ہے بعض آدمی رافضیوں سے بڑھ گئے ہیں لعنت کی تسبیح رات دن پھیرتے ہیں اور انہی مخالفوں میں سے بعض ایسے نکلے ہیں کہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں ہم تو اللہ تعالیٰ سے شرمندہ