ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 29

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹ جلد سوم ہے۔ مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کے مقابل میں سورۃ تبت یدا ہے۔ مجھے بھی فتویٰ کفر سے پہلے یہ الہام ہوا تهَا إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِي كَفَرَ أَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ لَعَلَّى أَطَّلِعُ عَلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا كَانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفًا وَمَا أَصَابَكَ فمن اللہ یعنی وہ زمانہ یاد کر کہ جبکہ مُکفِّر تجھ پر تکفیر کا فتوی لگائے گا۔ اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکتا ہو کہے گا کہ میرے لیے اس فتنہ کی آگ بھڑکا۔ تا میں دیکھ لوں کہ یہ شخص جو موسیٰ کی طرح کلیم اللہ ہونے کا مدعی ہے۔ خدا اس کا معاون ہے یا نہیں اور میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور آپ بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر۔ اور جو رنج تجھے پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔ غرض سورۃ تبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور ولا الضالین کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورۃ اخلاص ہے۔ اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونوں کی تفسیر ہیں ۔ ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی ۔ پس جیسے سورہ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے۔ ان دونوں بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی۔ تا کہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اول بآخر نسبتی دارد۔ سورۃ فاتحہ میں جو ان فتنوں کا ذکر ہے وہ کئی مرتبہ بیان کیا ہے مگر قرآن شریف کے آخر میں جو ان فتنوں کا ذکر ہے وہ بھی مختصر طور پر سمجھ لو۔ الضَّالِّينَ کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں ۔ اصل تو قُلْ هُوَ اللهُ (الاخلاص : ۲) ہے اور باقی دونو سورتیں اس کی شرح ہیں ۔ قُلْ هُوَ الله کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاری سے کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا۔ اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ پھر سورۃ الفلق میں اس فتنہ سے بچنے کے لیے یہ دعا سکھائی قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یعنی تمام