ملفوظات (جلد 3) — Page 370
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٣٧٠ جلد سوم مولوی صاحب نے بطیب خاطر منظور کیا۔ ظہر کی نماز سے پیشتر حضرت اقدس نے مضمون زیر قلم کے پر فرمایا کہ اعجاز احمدی کلام کا معجزه آدم ۔ کا معجزہ آدم سے لے کر آنحضرت کے زمانہ تک چار ہزار برس ہوتے ہیں سوائے قرآن کے اور کسی نے نہیں دکھایا اور نہ کسی نے دیکھا۔ چونکہ یہ مجزہ ایک ہی کتاب کے متعلق ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس پر زور ڈالا جاوے کہ لوگ خوب سمجھ لیویں۔ کیا ان ( مخالف ) لوگوں کے پاس قلم نہیں ، وقت نہیں یا الفاظ نہیں؟ میرا تو ایمان ہے کہ یہ خدا کا نشان ہے اور ایک آفتاب کی طرح نظر آتا ہے میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔ خدا تعالیٰ ہی نے سب کچھ کروایا ورنہ ہم تو سب کچھ چھوڑ بیٹھے تھے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَهْى (الانفال : ۱۸) ۔ کشتی نوح کی اشاعت کثرت سے کی جائے خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر پشاور سے کوہاٹ ہوتے ہوئے تشریف لائے اور نماز مغرب سے پیشتر مسجد میں حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی ۔ خواجہ صاحب نے پشاور اور کوہاٹ کا ذکر سنایا کہ وہاں پر اکثر اشتہارات جو کہ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ میں حضور کی مخالفت میں شائع ہوتے ہیں اس نظر سے پڑھے جاتے ہیں کہ گویا وہ حضور کے اشتہارات ہیں اسی مغالطہ سے سرحد کے لوگوں کے دلوں میں آپ کی طرف سے یہ خیالات ذہن نشین ہیں کہ نعوذ باللہ جناب نے روزے اپنے خدام کو معاف کر دیئے ہیں اور نبی کریم کی ہتک کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک جھوٹا نبی تھا میں اس سے افضل ہوں یہ اشتہار اس وضع اور سے لکھے ہوئے ہیں کہ عوام الناس کو دھوکا لگتا ہے اور یہی خیال کیا جاتا ہے کہ آپ کا مضمون اور ا عنوان سے لکھے ہو ۔ آپ کی تحریر ہے۔ حضرت رت اقدس نے فرمایا کہ کشتی نوح وہاں کثرت سے تقسیم کر دی جاوے یہی کافی ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ ایک ذی وجاہت شخص کو میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اسے پڑھ کر کہا کہ لے مراد اعجاز احمدی (مرتب)