ملفوظات (جلد 3) — Page 366
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۶ جلد سوم تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو تو رڈ لکھتا ہے اور اصل میں مرزا صاحب سچے ہیں ۔ ( بوقت مغرب ) جلوه ساعت کا علم کسی کو نہیں حضرت اقدس حسب معمول شرین پر جو کر ہوئے ۔ احاب نہیں سے ایک نے اٹھ کر عرض کی کہ حضور نے تحفہ گولڑویہ میں دار قطنی نے کی جو حدیث نقل فرمائی ہے اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل قیامت کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو بھی نہیں حتی کہ فرشتوں کو بھی نہیں اور وہاں ساعۃ کا لفظ ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ عورتوں کے حمل کی میعاد نو ماہ دس دن ہوتی ہے جب نو ماہ پورے ہو گئے تو اب باقی دس دن میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کون سے دن وضع حمل ہو گا گھر کا ہر ایک آدمی بچہ جننے کی گھڑی کا منتظر رہتا ہے اسی لئے قیامت کا نام ساعت رکھا ہے کہ اس ساعت کی خبر نہیں ۔ خدا کی کتابوں میں جو اس کی علامات ہیں ممکن ہے کہ ان سے کوئی آدمی قریب قریب اس زمانہ کا پتہ بھی دیدے مگر اس ساعت کی کسی کو خبر نہیں ہے جیسے وضع حمل کی ساعت کی کسی کو خبر نہیں ۔ ایک ڈاکٹر سے بھی پوچھو وہ بھی کہے گا کہ نو ماہ اور دس دن ۔ مگر جو نہی نو ماہ گذرے پھر فکر رہتا ہے کہ دیکھیے کون سے دن ہو۔ کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ ہزار سال کے بعد قیامت قریب ہے اب چھ ہزار تو گذر گئے ہیں قیامت تو قریب ہو گی مگر اس گھڑی کی خبر نہیں ۔ مولوی ۔ محمد علی صاحب ایم اے نے ایک خط کا کشمیر سے ایک پرانے صحیفہ کی برآمدگی مضمون سنایا جو کہ سٹریٹ سیلمنٹ سے آیا تھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیر سے ایک پرانا صحیفہ ایک پادری بنام فدا ہمس نے حاصل کیا ہے جو کہ دو ہزار سال کا ہے اس میں مسیح کی آمد اور اس کے منجی ہونے کی پیشگوئی ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ بعض وقت پادری لوگ عیسوی مذہب کی عظمت دل نشین کرانے کے واسطے ایسی مصنوعات سے کام لیتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک اس کا معیار یہ ہے کہ اگر اس صحیفہ میں تثلیث کا ذکر ہو تو سمجھنا چاہیے کہ